جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 59 ویں اجلاس میں پاکستانی سفارتکار دانیال حسنین نے بھارت کی انتہاپسند پالیسیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر کھل کر آواز بلند کی۔اپنے جرات مندانہ خطاب میں دانیال حسنین نے کہا کہ:
"بھارت اس وقت جنوبی ایشیا میں ایک انتہاپسند اور بدمعاش ریاست کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔”
پاکستانی سفارتکار نے عالمی فورم پر بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں، پاکستان میں دہشتگردوں کی پشت پناہی اور سرحدی جارحیت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا:
"بھارت ہماری سرحدوں پر اشتعال انگیزی، پانی بند کرنے کی دھمکیاں، اور پاکستان کے اندر دہشتگردی کو ہوا دے کر خطے کو ایٹمی جنگ کی جانب دھکیل رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ:
"بھارتی قیادت نہ صرف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہے بلکہ اس کا کھلے عام کریڈٹ بھی لیتی ہے۔ اختلاف رائے رکھنے والوں کو قتل کیا جا رہا ہے، ان کے گھر گرائے جا رہے ہیں، اور اقلیتوں پر ظلم روا رکھا جا رہا ہے۔”
دانیال حسنین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر بھی شدید احتجاج کیا:
"بھارت جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی سازش میں ملوث ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔”
پاکستانی سفارتکار نے عالمی برادری کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ:
"چاہے انڈین اسپانسرڈ دہشتگردی ہو یا سرحدی اشتعال انگیزی، پاکستان نے ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ ہم اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا بخوبی جانتے ہیں







Discussion about this post