دنیا کی سب سے مصروف آبی گزرگاہ آج ایک خاموش مگر خوفناک خطرے کی زد میں ہے۔ آبنائے ہرمز کی تہوں میں چھپی بارودی سرنگیں نہ صرف جہازوں کے لیے موت کا پیغام ہیں، بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے ایک ایسا بم ہیں جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔پینٹاگون نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو دی گئی ایک حساس بریفنگ میں خبردار کیا ہے کہ ان بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کا عمل چھ ماہ کی طویل مدت مانگتا ہے، اور یہ کارروائی بھی تب ہی شروع ہو سکے گی جب امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی یا ممکنہ جنگ کا کوئی انجام سامنے آئے۔ یعنی ابھی تو دور تک امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔

محکمہ دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس بریفنگ میں انکشاف کیا کہ ایران ممکنہ طور پر ہرمز کے گرد و نواح میں بارودی سرنگوں کا ایک خاموش جال بچھا چکا ہے۔ مگر سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض سرنگیں جدید جی پی ایس ٹیکنالوجی کے ذریعے دور سے نصب کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے امریکی افواج کے لیے انہیں بروقت ڈھونڈنا ایک ایسا چیلنج بن گیا ہے جس کا کوئی آسان جواب نہیں۔ جدید ترین ہتھیار، جدید ترین مسئلہ۔اس خبر نے واشنگٹن کے سیاسی ایوانوں میں بھی ہلچل مچا دی۔ ڈیموکریٹ ہوں یا ریپبلکن، دونوں نے اس چھ ماہ کی ٹائم لائن پر مایوسی کا اظہار کیا، اور اس مایوسی میں وہ سوال چھپا ہے جو عالمی منڈیوں میں بھی گونج رہا ہے کہ اگر امن معاہدہ بھی ہو جائے تو کیا تیل کی قیمتیں نیچے آ سکتی ہیں؟ جواب تلخ ہے، شاید نہیں، کم از کم جب تک پانیوں کی یہ صفائی مکمل نہ ہو۔ آبنائے ہرمز وہ شہ رگ ہے جس سے مشرقِ وسطیٰ کا تیل سفر کر کے دنیا کے کونے کونے تک پہنچتا ہے۔ اس گزرگاہ میں کوئی بھی رکاوٹ محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہتی، وہ فوری طور پر ہر اس انسان کی جیب پر اثر ڈالتی ہے جو پٹرول پمپ پر رکتا ہے، ہر اس فیکٹری پر جو ایندھن سے چلتی ہے، اور ہر اس ملک پر جو توانائی کے لیے اس راستے پر انحصار کرتا ہے۔







Discussion about this post