جب بڑی طاقتیں آمنے سامنے کھڑی ہوں اور بات چیت کے دروازے بند ہونے لگیں، تو تاریخ کے نازک موڑوں پر کوئی نہ کوئی خاموش ہاتھ ان دروازوں کو تھامے رکھتا ہے۔ آج وہ ہاتھ پاکستان کا ہے۔برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک اہم رپورٹ میں وہ پردہ اٹھایا ہے جو اب تک دیکھنے والی آنکھوں سے اوجھل تھا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تھامنے اور مذاکرات کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے پسِ پردہ ایک خاموش مگر انتہائی مؤثر سفارتی مہم میں مصروف ہے۔ یہ وہ کوشش ہے جس کا شور نہیں، مگر جس کے اثرات پوری دنیا محسوس کر سکتی ہے۔ اس حساس کھیل میں جنرل عاصم منیر کا نام کلیدی کردار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کی وہ کڑی بنے ہوئے ہیں جسے دونوں فریق ابھی تک علی الاعلان تسلیم نہیں کرتے، مگر جس کی ضرورت دونوں کو یکساں شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں جہاں ایک قدم آگے امید ہے اور ایک قدم پیچھے تباہی۔ باہمی اعتماد کا فقدان، سخت اقتصادی پابندیوں کا بوجھ اور حالیہ فوجی تناؤ نے اس راستے کو کانٹوں سے بھر دیا ہے، اور صورتحال کسی بھی لمحے مزید الجھ سکتی ہے۔ یہی وہ خلا ہے جسے پاکستان پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام آباد دونوں دارالحکومتوں کے درمیان ایک قابلِ اعتماد پل بننا چاہتا ہے، ایک ایسا پل جو نہ کسی کے ساتھ مکمل طور پر جھکے اور نہ کسی کے لیے بند ہو، بلکہ بات چیت کا راستہ کھلا رہنے دے۔ ماہرین کی نظر میں اگر یہ خاموش سفارت کاری کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی ایک نئی صبح طلوع ہوگی، عالمی تناؤ میں کمی آئے گی، اور پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرے گا جس نے اُس وقت دنیا کو جوڑا جب دنیا ٹوٹنے کے قریب تھی۔







Discussion about this post