ایران نے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کی باضابطہ تصدیق کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فٹبال کی زبان کسی بھی سیاسی رکاوٹ سے بڑی ہوتی ہے۔ایرانی وزارتِ کھیل نے واضح کر دیا ہے کہ قومی ٹیم اس عالمی میلے میں شرکت کے لیے نہ صرف تیار ہے بلکہ تمام ضروری انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کی تصدیق اور فیفا کے سربراہ جیانی انفانتینو کے واضح موقف نے اس معاملے پر پڑے تمام سوالیہ نشانوں کو مٹا دیا ہے۔

گیارہ جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہونے والا یہ عالمی ایونٹ اپنے آپ میں ایک تاریخی موقع ہے، اور ایران اس میں پہلے ہی اپنی جگہ پکی کر چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کے تمام گروپ میچز امریکی سرزمین پر کھیلے جائیں گے، یعنی وہی امریکا جس کے ساتھ تعلقات اس وقت برف سے بھی زیادہ ٹھنڈے ہیں۔ پندرہ جون کو لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا میچ، پھر اکیس جون کو بیلجیئم اور ستائیس جون کو مصر کے خلاف مقابلے، یہ شیڈول ہی اپنے آپ میں ایک دلچسپ کہانی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی شرکت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ مناسب نہیں ہوگا، مگر تہران نے اس بیان کو اس انداز سے رد کیا جیسے کوئی تجربہ کار کھلاڑی مخالف کی چال کو پہچان کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ ایران کا جواب صاف اور دوٹوک تھا کہ کوئی بھی طاقت اس کی قومی ٹیم کو عالمی کپ کے میدان سے باہر نہیں کر سکتی۔ تجزیہ کاروں کی نظر میں یہ پورا منظرنامہ اس حقیقت کا آئینہ ہے کہ آج کے دور میں کھیل کا میدان بھی سیاست سے خالی نہیں رہا۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ جب ایران امریکی سرزمین پر فٹبال کھیلے گا، تو لاکھوں تماشائیوں کی نظریں صرف گیند پر نہیں ہوں گی، وہ اس سے بڑی کہانی بھی دیکھ رہے ہوں گے جو ہر گول کے پیچھے چھپی ہوگی۔







Discussion about this post