اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی فوج کے سابق اہلکار محمد آصف الیاس کے مارے جانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے انہیں میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔
پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 29 ستمبر کی رات بھارتی کور کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مشترکہ سرچ آپریشن سے متعلق ایک ٹوئٹ کیا گیا۔ جس میں دعویٰ کیا گیا کہ آپریشن کے دوران ایک دہشت گرد مارا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً ساڑھے سات گھنٹے بعد بھارتی فوج کی جانب سے ایک اور اپ ڈیٹ جاری کی گئی۔ 30 ستمبر کو دعویٰ کیا گیا کہ لشکر طیبہ کے ایک دہشت گرد کی لاش ملی ہے۔ جس کی شناخت محمد آصف الیاس عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے ہوئی اور اس کا تعلق پاکستان سے بتایا گیا۔ بھارتی حکام کی جانب سے اس حوالے سے سروس نمبر سمیت دیگر تفصیلات بھی جاری کی گئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے بعد میں جاری کی گئی تفصیلات میں دہشت گرد کو آصف الیاس سے منسلک کیا گیا تاہم محمد آصف اس وقت سب کے سامنے موجود ہیں۔
اس موقع پر ترجمان پاک فوج نے محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جہاں انہوں نے اپنے بارے میں بھارتی دعوے کی تردید کرتے ہوئے حقیقت سے آگاہ کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ بھارتی فوج کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے بھی اس حوالے سے تفصیلات جاری کی گئیں۔ بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا کہ مارا جانے والا محمد آصف ایس ایس جی کا حوالدار تھا اور اس کا شناختی کارڈ بھی دکھایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج اور بھارتی حکومت کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔ بھارتی حکام کی جانب سے آپریشن شیرووالی میں کامیابی کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ یہ آپریشن مئی میں شروع کیا گیا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے آصف کو ایک بڑے دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا اور ان کے فوجی پس منظر سے متعلق مختلف دعوے کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کے خلاف مظالم کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں اور بھارت کئی دہائیوں سے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کے الزامات کا سامنا کرتا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارتی حکام کی جانب سے محمد آصف کے بارے میں کیے گئے دعوے بھی اسی تناظر میں دیکھے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر محمد آصف نے بتایا کہ انہوں نے 2008 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور 2023 میں ایس ایس جی سے حوالدار کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایک نجی سیکیورٹی کمپنی میں ڈیوٹی کرتے رہے اور اس وقت راولپنڈی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔
محمد آصف نے بتایا کہ دوستوں نے انہیں فون کرکے آگاہ کیا کہ بھارت میں ان کے حوالے سے خبریں چل رہی ہیں۔ لوگوں نے انہیں فون کرکے بتایا کہ بھارتی فوج نے انہیں شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہ اپنے گھر میں موجود ہیں تو بھارتی فوج نے انہیں کیسے شہید کردیا۔
محمد آصف کے مطابق اس کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا دیکھا جہاں بھارتی دعوے سے متعلق خبریں موجود تھیں۔ اس دوران انہیں مسلسل فون کالز موصول ہوتی رہیں اور بھارت سے بھی کالز آنا شروع ہوگئیں، جس پر انہوں نے نمبرز بلاک کرکے اپنے افسران کو صورتحال سے آگاہ کیا۔
محمد آصف نے کہا کہ الحمدللہ وہ زندہ ہیں اور سب کے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی وطن کی خاطر بہادری سے لڑے اور آئندہ بھی وطن کی خدمت کے لیے حاضر ہیں۔
سابق ایس ایس جی حوالدار نے بھارت کی جانب سے اپنے خلاف کیے جانے والے دعوے اور پروپیگنڈے کی مذمت بھی کی۔
پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت، مقبوضہ کشمیر اور افغانستان سے متعلق بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ کرنا ہے اور ملک کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔
مکہ معاہدے کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ معاہدہ بحث کے لیے نہیں بلکہ اس پر کام جاری ہے۔ حرمین شریفین اور سعودی عرب کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کے دفاعی اور آپریشنل نکات پر عمل درآمد کے لیے پاکستان پُرعزم ہے۔
افغانستان سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج ایک ایسا ادارہ ہے جو آئین کے تحت وفاق کے لیے کام کرتا ہے۔ افغانستان سے رابطوں یا بات چیت سے متعلق سوال وفاقی حکومت سے کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے بھرپور جواب دیتا رہے گا۔
سیاست کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور اس حوالے سے حکومت ہی وضاحت کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جمہوریت ہے اور ریاست ہے تو عوام اور ادارے موجود ہیں۔






Discussion about this post