پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون ایک نئے اور زیادہ حساس مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا تازہ بیان کہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان اپنے تمام دستیاب وسائل فراہم کرے گا، محض سفارتی حمایت تک محدود بیان نہیں بلکہ اس سے یہ سوال بھی پیدا ہو گیا ہے کہ اگر حوثیوں کے حملے جاری رہتے ہیں تو مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ عملی طور پر کس حد تک فعال ہو سکتا ہے۔
خواجہ آصف نے روم میں عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی فوج کی جانب سے سعودی عرب میں حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں براہِ راست شرکت کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت پاکستان کی فوجی صلاحیتیں سعودی عرب کے لیے دستیاب ہوں گی۔
یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اگست 2026 میں طے پانے والا مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کسی ایک ملک کے خلاف اتحاد کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ تینوں ممالک نے اسے باہمی دفاعی انتظام قرار دیا ہے، جبکہ اس کے مکمل عملی طریقۂ کار کی تفصیلات ابھی منظر عام پر نہیں آئیں۔
حوثیوں کا محاذ کیوں اہم ہے؟
یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے۔ ستمبر میں سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملوں کو روکنے کا دعویٰ کیا جبکہ حوثیوں نے ریاض اور سعودی آرامکو کی تنصیبات سمیت مختلف اہداف پر حملوں کے دعوے کیے۔ ان میں سے بعض دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
اس تنازعے کی اہمیت صرف سعودی سرحدوں تک محدود نہیں۔ یمن کا جغرافیہ بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور عالمی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی اور باب المندب کے قریب ان کی سرگرمیوں نے ایک بار پھر عالمی شپنگ اور توانائی کے راستوں کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔
ممکنہ مستقبل کے منظرنامے
1. پاکستان پہلے مرحلے میں دفاعی مدد تک محدود رہ سکتا ہے
خواجہ آصف کے بیان کا ایک ممکنہ مطلب یہ ہے کہ پاکستان فوری طور پر یمن میں براہِ راست زمینی یا فضائی جنگ شروع کرنے کے بجائے سعودی عرب کے ایئر ڈیفنس، انٹیلی جنس، نگرانی، لاجسٹکس، تربیت اور دیگر دفاعی صلاحیتوں میں مدد دے۔
یہ راستہ پاکستان کو سعودی عرب کے دفاعی عزم پر قائم رکھتے ہوئے براہِ راست یمن کی جنگ میں داخل ہونے سے بھی کچھ فاصلے پر رکھ سکتا ہے۔
پاکستانی فوج پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہے، جبکہ پاکستانی حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کے مطابق مزید مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔
2. سعودی درخواست پر پاکستان براہِ راست کارروائی کر سکتا ہے
زیادہ سنگین صورتحال اس وقت پیدا ہوگی جب سعودی عرب باضابطہ طور پر پاکستان سے براہِ راست فوجی کارروائی کی درخواست کرے۔
ایسی صورت میں سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ پاکستان مدد کرے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ مدد کی نوعیت کیا ہوگی۔
ممکنہ طور پر اس میں:
- فضائی دفاع
- میزائل اور ڈرون کے خلاف صلاحیت
- انٹیلی جنس اور نگرانی
- سعودی تنصیبات کا تحفظ
- فضائی یا بحری معاونت
- اور انتہائی صورت میں یمن میں محدود فوجی کارروائی
شامل ہو سکتی ہے۔
البتہ موجودہ صورتحال میں پاکستان نے یہ تصدیق نہیں کی کہ سعودی عرب نے براہِ راست یمن میں پاکستانی حملوں کی درخواست کی ہے یا پاکستانی فورسز پہلے ہی حوثیوں کے خلاف کارروائی میں شریک ہیں۔
3. ترکیہ کا کردار بھی فیصلہ کن ہوسکتا ہے
اس بحران کو صرف پاکستان اور سعودی عرب کا معاملہ سمجھنا مکمل تصویر نہیں دے گا۔
ترکیہ بھی اسی دفاعی معاہدے کا فریق ہے اور ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب کو اگر مخصوص فوجی یا تکنیکی ضروریات درپیش ہوں تو ترکیہ انہیں پورا کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ تینوں ممالک براہِ راست یمن میں جنگ لڑنے کے بجائے پہلے سعودی دفاعی نظام کو مضبوط کرنے پر توجہ دیں۔
اصل خطرہ: تنازعہ سعودی سرحدوں سے آگے پھیل سکتا ہے
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر حوثی حملے سعودی عرب کے اندر مزید گہرائی تک پہنچتے ہیں تو کیا یہ بحران صرف سعودی-حوثی تنازعہ رہے گا؟
یہاں صورتحال پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
حوثی حملے اگر سعودی فوجی اڈوں یا تیل کی تنصیبات تک محدود رہتے ہیں تو ردعمل نسبتاً محدود رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر اہم شہری مراکز، مذہبی مقامات، بڑے تیل کے مراکز یا اہم انفراسٹرکچر مسلسل نشانہ بننے لگے تو سعودی عرب کے لیے زیادہ سخت فوجی ردعمل کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ مکہ دفاعی معاہدے کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک مقامی جنگ ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ایران کا عنصر سب سے حساس رہے گا
حوثیوں کے معاملے میں ایک اور پیچیدگی ایران ہے۔
امریکا، سعودی عرب اور دیگر ممالک حوثیوں کو ایران سے منسلک گروپ سمجھتے ہیں، جبکہ تہران حوثیوں کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے صورتحال اس لیے مزید حساس ہے کہ اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری کے ساتھ ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی برقرار رکھتا ہے۔ پاکستانی حکام نے حالیہ بحران میں مذاکرات اور سیاسی حل کی حمایت جاری رکھنے کی بات کی ہے۔
اس لیے اسلام آباد کے لیے سب سے بڑا سفارتی چیلنج یہ ہوگا کہ وہ:
سعودی عرب کے دفاعی عزم، ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات اور خطے میں ثالثی کے کردار: تینوں کو بیک وقت کیسے برقرار رکھتا ہے۔






Discussion about this post