تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

مہنگائی صرف غریب سے روٹی نہیں چھینتی حکمرانوں سے اقتدار بھی چھین لیتی ہے!

by ویب ڈیسک
نومبر 4, 2026
us election
Share on FacebookShare on Twitter

امریکی وسط مدتی انتخابات کا فیصلہ: عوام نے مہنگائی کا حساب ووٹ سے برابر کردیا

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارت کی مدت کو ابھی آدھا ہی وقت گزرا ہے لیکن عوام نے ان کی جماعت کو ایک ایسا سیاسی پیغام دے دیا ہے جسے وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے نہ صرف ایوانِ نمائندگان بلکہ سینیٹ کا کنٹرول بھی ری پبلکنز سے چھین لیا ہے۔ کم از کم سات سینیٹ نشستیں ڈیموکریٹس کے حصے میں آئیں، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں بھی دو درجن سے زیادہ نشستوں پر کامیابی نے سیاسی نقشہ تبدیل کر دیا۔

یہ محض چند نشستوں کی ہار جیت نہیں۔ یہ اس صدر کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے جس نے اپنی انتخابی مہم میں امریکی معیشت کو دوبارہ مضبوط بنانے، مہنگائی پر قابو پانے اور عام امریکی کو معاشی ریلیف دینے کے وعدے کیے تھے۔

لیکن لگتا ہے کہ امریکی ووٹر نے وعدوں کی تقریریں سننے کے بجائے اپنی خریداری کی رسیدیں دیکھنے کو ترجیح دی اور یہی اس انتخاب کا اصل سبق ہے۔

ذرا ایک عام امریکی گھرانے کا بجٹ دیکھیے۔ گھر کا کرایہ، بجلی، گاڑی کا ایندھن، انشورنس، بچوں کی تعلیم اور صحت کے اخراجات۔ اگر تنخواہ میں اتنا اضافہ نہ ہو جتنا ان اخراجات میں ہورہا ہے تو معاشی ترقی کے سرکاری اعدادوشمار گھر کے باورچی خانے میں زیادہ کام نہیں آتے۔

حکومت کہہ سکتی ہے کہ معیشت ترقی کر رہی ہے، اسٹاک مارکیٹ اوپر جا رہی ہے اور بے روزگاری قابو میں ہے۔ مگر جس شخص کو سپر مارکیٹ میں وہی سامان خریدنے کے لیے پہلے سے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہو اس کے لیے معاشی کامیابی کا پیمانہ کچھ اور ہوتا ہے۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے۔ مہنگائی کی شرح کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اشیا سستی ہوگئی ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ قیمتیں پہلے کے مقابلے میں نسبتاً سست رفتار سے بڑھ رہی ہیں۔ جو قیمتیں ایک مرتبہ اوپر جا چکی ہیں، وہ ضروری نہیں کہ واپس نیچے بھی آجائیں۔

چنانچہ حکومت کے لیے مہنگائی کے اعدادوشمار بہتر ہونا ایک کامیابی ہوسکتی ہے، لیکن عوام کے لیے مہینے کے آخر میں پیسے بچ جانا اصل کامیابی ہے۔

امریکی انتخابات کے بعد سامنے آنے والے ایگزٹ پولز بھی اسی معاشی بے چینی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مسلسل دو انتخابات میں ووٹروں کی بڑی تعداد نے مہنگائی کو اپنے لیے مالی مشکل قرار دیا۔ جن لوگوں نے اپنی معاشی حالت دو سال پہلے کے مقابلے میں خراب بتائی، ان کی بڑی تعداد نے ڈیموکریٹس کی حمایت کی۔

us election 01

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے نوجوانوں، لاطینی امریکی نژاد ووٹروں اور خواتین کے ایک حصے میں اپنی حمایت بڑھائی تھی۔ لیکن 2026 میں ان گروہوں کی اکثریت ایوانِ نمائندگان کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ آزاد ووٹروں کی حمایت بھی ڈیموکریٹس کی کامیابی میں اہم ثابت ہوئی۔ گویا ووٹر کی سیاسی وفاداری اتنی مستقل نہیں ہوتی جتنی سیاست دان انتخابی جلسوں میں سمجھتے ہیں۔

ٹیکساس اس تبدیلی کی ایک بڑی مثال ہے۔ یہ وہ ریاست ہے جہاں ری پبلکنز تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ریاستی سیاست پر غالب رہے۔ لیکن اس بار ڈیموکریٹ جیمز ٹالاریکو نے ری پبلکن کین پیکسٹن کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی نشست جیت لی، جبکہ جینا ہینوجوسا نے گریگ ایبٹ کو شکست دے کر ریاست کی پہلی لاطینی گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

یہ نتائج بتاتے ہیں کہ سیاسی طور پر مضبوط سمجھی جانے والی ریاستیں بھی معاشی ناراضی کے سامنے ہمیشہ مضبوط نہیں رہتیں۔

البتہ اس انتخاب کو صرف مہنگائی کی کہانی سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ٹیرف پالیسی، ایران کے خلاف فوجی کارروائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، امیگریشن پالیسی اور صدر کے اختیارات پر کانگریس کی نگرانی جیسے معاملات نے بھی ووٹروں کی رائے بنانے میں کردار ادا کیا۔

لیکن ان تمام مسائل کے درمیان ایک سوال مشترکہ تھا، کیا موجودہ حکومت عام امریکی کی زندگی آسان بنا رہی ہے یا مشکل؟ اور جب اس سوال کا جواب ووٹ کی پرچی پر لکھا گیا تو ری پبلکنز کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑی۔

اب اس انتخاب کے بعد واشنگٹن میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹس نئی کانگریس میں قانون سازی روکنے، صدارتی نامزدگیوں کی مخالفت کرنے اور ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کی تحقیقات کرنے کی زیادہ طاقت رکھتے ہوں گے۔ صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں بدستور موجود رہیں گے، لیکن ان کے لیے اگلے دو سال پہلے جیسے آسان نہیں ہوں گے۔

یہاں ڈیموکریٹس کے لیے بھی ایک مشکل سوال موجود ہے۔ عوام نے انہیں اقتدار کے ایوانوں میں جگہ اس لیے نہیں دی کہ وہ صرف ری پبلکنز کی غلطیاں گنواتے رہیں۔ انہیں اب ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مہنگائی، رہائشی اخراجات اور عام شہری کے معاشی مسائل پر کچھ عملی پیش رفت بھی کرسکتے ہیں۔

کیونکہ ووٹر کی ناراضی کسی ایک جماعت کی مستقل جاگیر نہیں ہوتی۔ آج وہ ری پبلکنز سے ناراض ہے، کل ڈیموکریٹس سے بھی ہوسکتا ہے۔

امریکی سیاست کا یہ نتیجہ دنیا کے ان تمام حکمرانوں کے لیے بھی ایک سبق رکھتا ہے جو معاشی مشکلات کو محض اعدادوشمار، پریس کانفرنسوں اور سیاسی نعروں سے حل شدہ سمجھ لیتے ہیں۔

عوام کو یہ بتانا آسان ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے لیکن انہیں یہ محسوس کرانا مشکل ہے کہ ان کی اپنی زندگی بھی بہتر ہو رہی ہے۔ آخرکار ووٹر کو یہ یاد نہیں رہتا کہ وزیر خزانہ نے کتنی اچھی تقریر کی تھی۔ اسے یہ یاد رہتا ہے کہ مہینے کے آخری ہفتے میں اس کے بٹوے میں کتنے پیسے بچے تھے۔

اور شاید اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ مہنگائی صرف غریب سے روٹی نہیں چھینتی یہ اقتدار بھی چھین لیتی ہے۔

Previous Post

ایٹمی حملے کا خوف، ٹکر کارلسن کا دعویٰ اور ایران کی جنگی تیاری: مشرقِ وسطیٰ ایک نئے خطرے کے دہانے پر؟

Discussion about this post

تار نامہ

us election

مہنگائی صرف غریب سے روٹی نہیں چھینتی حکمرانوں سے اقتدار بھی چھین لیتی ہے!

iraniian nuclear facility

ایٹمی حملے کا خوف، ٹکر کارلسن کا دعویٰ اور ایران کی جنگی تیاری: مشرقِ وسطیٰ ایک نئے خطرے کے دہانے پر؟

oil refineries

پٹرول پرعوام کو ریلیف کس قیمت پر ملا؟

pak vs srilanka

کل ہیرو، آج زیرو، "Unpredictable” پاکستان!

iran meeting

تہران کی میز پر چار ملک، کئی مفادات اور ایک بڑا سوال

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist