اسلام آباد میں حکومتی وزرا کی پریس کانفرنس سن کر بظاہر یہی لگتا ہے کہ حکومت نے عوام کو ایک بڑے معاشی جھٹکے سے بچا لیا ہے۔ جمعہ کو پٹرول 15 روپے فی لیٹر مہنگا ہونا تھا، وزیراعظم نے مداخلت کی، ریفائنریز نے قربانی دی اور قیمت برقرار رکھ دی گئی۔
لیکن اس کہانی میں ایک سوال ایسا بھی ہے جس کا جواب پریس کانفرنس میں پوری طرح نہیں ملا۔ آخر عوام کو ملنے والا یہ ریلیف مستقل ہے، عارضی ہے یا صرف قیمتوں میں اضافے کو کچھ دن کے لیے آگے دھکیل دیا گیا ہے؟
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، انشورنس، لاجسٹکس اور خطے کی کشیدہ صورتحال نے پاکستان کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی درآمد مہنگی کر دی ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں میں کشیدگی نے توانائی کی عالمی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان چونکہ اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں آنے والی تبدیلی کا اثر یہاں پہنچنا تقریباً ناگزیر ہے۔
مگر اصل دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے اس مرتبہ قیمتوں کا بوجھ براہ راست صارفین پر منتقل کرنے کے بجائے آئل ریفائنریز سے اٹھانے کی درخواست کی ہے۔
وزیر پیٹرولیم کا دعویٰ ہے کہ ریفائنریز نے حکومت کے ساتھ مل کر 15 ارب روپے کا بوجھ برداشت کیا، جس کے نتیجے میں عوام کو پٹرول 15 روپے فی لیٹر مہنگا ہونے سے بچ گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریفائنریز نے گزشتہ تین ماہ میں اتنا منافع کمایا ہے جو شاید برسوں میں نہیں کمایا تھا۔
یہاں ایک اہم معاشی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر ریفائنریز واقعی غیر معمولی منافع کما رہی ہیں تو ان سے عوامی ریلیف میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، لیکن کیا اس منافع کی بنیاد، حساب کتاب اور ریلیف میں ان کے حصے کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھی جائیں گی؟
کیونکہ کسی بھی کاروباری شعبے سے قربانی مانگنے کے لیے شفافیت ضروری ہے۔ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ 15 ارب روپے کا بوجھ کس فارمولے کے تحت تقسیم ہوا، کتنی ریفائنریز نے حصہ لیا اور اس فیصلے کا مستقبل میں ان کی پیداوار اور سرمایہ کاری پر کیا اثر پڑے گا۔
دوسری طرف وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے فیول ریلیف اسکیم کی کامیابی کے اعدادوشمار پیش کیے۔ ان کے مطابق اسکیم کے تحت ڈیڑھ کروڑ سے زائد رجسٹریشن ہو چکی ہیں اور اب تک 27 ارب روپے عوام کو ریلیف کی مد میں دیے جا چکے ہیں۔
یہ اعدادوشمار یقیناً اہم ہیں لیکن رجسٹریشن اور حقیقی فائدہ اٹھانے والوں میں فرق ہوتا ہے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ کتنے افراد کو بروقت سبسڈی ملی، کتنے اس نظام سے باہر رہ گئے اور کیا یہ ریلیف مہنگائی کے مجموعی دباؤ کو کم کرنے کے لیے کافی ہے؟
یاد رکھیے، پٹرول کی قیمت صرف گاڑی یا موٹر سائیکل کے مالک کا مسئلہ نہیں ہوتی۔ پٹرول مہنگا ہو تو اشیائے خورونوش کی ترسیل سے لے کر پبلک ٹرانسپورٹ، کاروباری اخراجات اور بالآخر عام آدمی کے گھریلو بجٹ تک ہر چیز متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے پٹرول کی قیمت برقرار رکھنا وقتی طور پر ایک مثبت قدم ضرور ہے، لیکن یہ مہنگائی کے بنیادی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔
حکومت کے سامنے اصل چیلنج بھی یہی ہے۔ ایک طرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، دوسری طرف ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے اور عوام کو ریلیف دینے کا دباؤ ہے۔ حکومت کے پاس تین راستے ہیں: سبسڈی دے، کسی دوسرے شعبے سے بوجھ برداشت کروائے یا پھر قیمتوں میں اضافہ صارفین تک منتقل کر دے۔
لیکن ان تینوں راستوں کی اپنی ایک قیمت ہے۔ سبسڈی قومی خزانے پر دباؤ ڈالتی ہے، ریفائنریز پر بوجھ ان کے کاروباری فیصلوں کو متاثر کر سکتا ہے اور قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوام کی قوت خرید کم کرتا ہے۔
اس لیے اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ جمعہ کو پٹرول 15 روپے مہنگا نہیں ہوا۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ حکومت عوام کو ریلیف دیتے ہوئے ایسا نظام بھی بنائے جو ہر پندرہ دن بعد کسی نئی قربانی، کسی نئے انتظام یا کسی نئے دعوے کا محتاج نہ ہو۔
عوام کو وقتی خوشخبری سے زیادہ ایک قابلِ اعتماد معاشی پالیسی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پٹرول کی قیمت آج برقرار رہ سکتی ہے، لیکن اگر عالمی بحران جاری رہا تو کل اس کا بوجھ کون اٹھائے گا؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب حکومت کو صرف پریس کانفرنس میں نہیں، اپنی معاشی حکمت عملی میں بھی دینا ہوگا۔






Discussion about this post