پاکستان اور بھارت کل صبح ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے۔
اس بار نہ ورلڈ کپ ہے، نہ ایشیا کپ، نہ کوئی سیمی فائنل۔
ایشین گیمز کا فائنل ہے۔
نِشِن کے کورُوگی اسپورٹس پارک میں دونوں ٹیمیں گولڈ میڈل کے لیے کھیلیں گی۔ پاکستان نے سیمی فائنل میں بارش سے مختصر کیے گئے میچ میں بنگلہ دیش کو چھ وکٹوں سے شکست دی، جبکہ بھارت نے سری لنکا کو 124 رنز سے ہرا کر فائنل میں جگہ بنائی۔
اور یوں ایک ایسا فائنل سامنے آ گیا جس کا ایشین گیمز میں مینز کرکٹ کو شاید خود بھی انتظار تھا۔
پاکستان اور بھارت۔
اور درمیان میں وہی چیز ہے جو ہر بار پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کو محض ایک کرکٹ میچ رہنے نہیں دیتی۔
لیکن اس بار ایک دلچسپ بات اور بھی ہے۔
پاکستان نے اپنا سیمی فائنل صرف 13 اوورز کا کھیلا۔ بنگلہ دیش نے 111 رنز بنائے اور پاکستان نے عبدالصمد کی 15 گیندوں پر 30 رنز کی ناقابل شکست اننگز کی مدد سے ہدف حاصل کر لیا۔ سفیان مقیم نے تین وکٹیں لیں۔
بھارت کو مکمل 20 اوورز ملے۔
ایشان کشن نے 46 گیندوں پر ناقابل شکست 80 رنز بنائے، نوجوان وائبھو سوریہ ونشی نے 21 گیندوں پر 38 رنز کیے اور بھارت نے 169 رنز بنائے۔
پھر جسپریت بمراہ نے پہلے ہی اوور میں دو وکٹیں لے لیں۔
سری لنکا 45 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔
یعنی فائنل سے پہلے دونوں ٹیموں نے ایک ہی راستہ طے نہیں کیا۔
پاکستان نے بارش، مختصر میچ اور دباؤ کے درمیان راستہ بنایا۔
بھارت نے مکمل میچ کھیلا، بڑا اسکور بنایا اور پھر سری لنکا کی بیٹنگ کو تقریباً ختم ہی کر دیا۔
اب فائنل میں یہ فرق کتنا معنی رکھتا ہے؟
یہ فیصلہ کل میدان کرے گا۔
مگر موسم ایک بار پھر کہانی میں شامل ہے۔
اس ٹورنامنٹ میں بارش نے پہلے ہی کئی میچوں کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں کے کوارٹر فائنل بارش کے باعث مکمل نہیں ہو سکے تھے اور دونوں ٹیمیں رینکنگ کی بنیاد پر سیمی فائنل تک پہنچی تھیں۔
فائنل کے لیے بھی کوئی ریزرو ڈے نہیں رکھا گیا۔
اور اگر بارش نے میچ کو مکمل ہونے ہی نہ دیا تو اس بار گولڈ میڈل مشترکہ طور پر دیے جانے کا امکان ہے۔
سوچئے۔
اتنی بڑی رقابت۔
اتنا بڑا فائنل۔
اور فیصلہ شاید بارش کرے۔
کرکٹ کبھی کبھی واقعی عجیب کھیل ہے۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
کیونکہ کل کا پاکستان بھارت مقابلہ شاید صرف ایک گولڈ میڈل کا معاملہ ہو، مگر اگلے سال دونوں ٹیموں کی ملاقات پہلے ہی طے ہو چکی ہے۔
2027 کا ورلڈ کپ۔
پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں ہیں۔
10 اکتوبر 2027 کو جوہانسبرگ میں دونوں ٹیمیں گروپ مرحلے میں آمنے سامنے ہوں گی۔ اور اگر دونوں ٹیمیں سپر 7 مرحلے تک پہنچتی ہیں تو 7 نومبر کو کیپ ٹاؤن میں ایک اور پاکستان بھارت مقابلہ شیڈول ہے۔
یعنی کرکٹ نے ابھی سے کیلنڈر میں جگہیں رکھ دی ہیں۔
کل نِشِن۔
اگلے سال جوہانسبرگ۔
پھر ممکن ہے کیپ ٹاؤن۔
اور پھر؟
اس کا فیصلہ ابھی کسی نے نہیں لکھا۔
یہی تو پاکستان بھارت کرکٹ کی خاص بات ہے۔
ہم ہر بار ایک میچ شروع کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کئی اگلے میچوں کی کہانی بھی شروع ہو جاتی ہے۔
کل صبح گولڈ میڈل سامنے ہوگا۔
بارش اپنی جگہ ہوگی۔
دباؤ اپنی جگہ ہوگا۔
اور دونوں طرف گیارہ گیارہ کھلاڑی ہوں گے۔
باقی جو کچھ ہوگا، وہ ہمیشہ کی طرح میدان طے کرے گا۔
اور شاید یہی بہتر ہے۔
کیونکہ پاکستان بھارت کے میچ میں پیش گوئی کرنے والوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔
نتیجہ بتانے والا کوئی نہیں۔






Discussion about this post