اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے عوامی نظم و امن کو ہر صورت برقرار رکھنے کے لیے ایک سلسلہ وار پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد شہر کو ہر طرح کے انتشار، اشتعال اور بے ضابطگی سے محفوظ رکھنا ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق کیسٹ پلیئرز، سی ڈی یا ڈی وی ڈی سسٹمز سمیت وہ تمام آلات جنہیں فرقہ وارانہ تقاریر یا اشتعال انگیزی پھیلانے کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ ہو، مکمل طور پر ممنوع قرار دے دیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے قرآنِ پاک کی آیات پر مشتمل اخباری یا کاغذی صفحات کو کسی بھی قسم کی پیکنگ یا لپیٹنے کے لیے استعمال کرنے پر سختی سے پابندی عائد کر دی ہے، تاکہ مقدس کلمات کی بے حرمتی سے بچا جا سکے۔ ایک اور واضح ہدایت میں پٹاخوں اور آتش بازی کی خرید و فروخت، ذخیرہ اندوزی اور استعمال کو یکسر غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ اسی طرح اسلحہ لے کر چلنے، دکھانے یا نمائش کرنے پر بھی مکمل پابندی ہوگی، تاہم یہ قدغن فوج، رینجرز، پولیس اور دیگر نیم فوجی اداروں پر لاگو نہیں ہوگی۔ اسلام آباد کے حدود میں راول جھیل اور سملی ڈیمز پر ہر قسم کی بوٹنگ بھی روک دی گئی ہے، جب کہ پیٹرول کی غیر قانونی فروخت یا غیر محفوظ ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔

امن و امان کے پیش نظر مذہبی منافرت بڑھانے والے ہینڈ بلز، پمفلٹس، وال چاکنگ اور پوسٹرز کی تقسیم یا نمائش کو بھی یکسر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر میں پانچ یا اس سے زائد افراد کے ہر قسم کے جلسے، جلوس اور مظاہرے بھی آئندہ حکم تک بند رہیں گے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اگلے دو ماہ تک یہ پابندیاں نافذ رہیں گی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحبزادہ محمد یوسف کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق اسلام آباد کی حدود میں اذان اور جمعہ کے خطبے کے علاوہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال، ساؤنڈ سسٹمز چلانے اور ایمپلی فائر کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔ ان تمام اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی ممکنہ انتشار، بد امنی یا خطرے کے ماحول کو پیدا ہونے سے پہلے ہی قابو میں رکھ لیا جائے۔







Discussion about this post