مشترکہ اجلاس میں قرارداد 214 ووٹوں سے منظور، 56 ارکان نے مخالفت کی؛ محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی شدید تنقید، حکومتی وزرا نے فیصلے کا دفاع کیا۔
اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سے متعلق صدارتی اعلانات کی توثیق کے لیے پیش کی گئی قرارداد 214 ووٹوں کی حمایت سے منظور کرلی گئی، جبکہ 56 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید گرما گرمی، نعرے بازی اور آئینی و سیاسی جواز پر بحث ہوئی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سمیت حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدر مملکت کا اعلان آئین کے آرٹیکل 232 کی شق 7 کے تحت، جبکہ گورنر راج سے متعلق دستاویزات آرٹیکل 234 کی شق 3 کے تحت ایوان میں پیش کیں۔
بعد ازاں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کے لیے قرارداد پیش کی گئی، جس پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا اور ووٹوں کی گنتی کو چیلنج کیا۔ اپوزیشن ارکان بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے اور کارروائی کے دوران نعرے بازی کرتے رہے۔
شیری رحمان کا جواب، پی ٹی آئی کی پالیسیوں پر سوالات
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال اور دہشت گردی کے مسئلے کو سیاسی بیانات تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کی رہائی اور ان سے متعلق پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران بعض مطالبات پر پیش رفت ہوئی تھی، تاہم سیاسی قیادت کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان نے مذاکراتی عمل کو متاثر کیا۔
شیری رحمان نے مزید کہا کہ کسی صوبے کی اپنی خارجہ پالیسی نہیں ہوسکتی اور وفاقی معاملات میں آئینی حدود کا احترام ضروری ہے۔
راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر کا احتجاج
اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے خطاب میں کہا کہ آئین وفاق اور صوبوں کے درمیان عمرانی معاہدہ ہے اور عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار سے محروم کرنا آئینی اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے 8 فروری کے انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی بحران کی بنیادی وجوہات دور کیے بغیر نظام کو مستحکم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں کی ملاقاتوں پر پابندیاں اور لانگ مارچ کو غیر قانونی قرار دینے کے اقدامات پر بھی وضاحت ہونی چاہیے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتی ہے۔
انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج ملک کی فوج ہے اور ان کی جماعت کا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ دہشت گردی سے متعلق الزامات کے بین الاقوامی سطح پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اس لیے حکومت کو ایسے بیانات واپس لینے چاہییں۔
بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی، گورنر راج اور فوج بلانے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کو اس انداز میں نہیں نمٹایا جانا چاہیے۔
ایمل ولی خان نے پی ٹی آئی کی سابقہ پالیسیوں پر سوال اٹھا دیے
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان نے کہا کہ دہشت گردی، پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج الگ الگ موضوعات ہیں، جن پر الگ الگ بحث ہونی چاہیے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی سابقہ صوبائی حکومت کی پالیسیوں اور طالبان کو مرکزی دھارے میں لانے کی تجاویز پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے گزشتہ برسوں میں اپنی ترجیحات پر نظرثانی نہیں کی اور صوبے کے سیاسی معاملات کو دیگر سیاسی محاذ آرائیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر دہشت گردی کے باعث صوبائی حکومت کو ختم کیا جارہا ہے تو اس معاملے پر وفاقی حکومت کی ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں کے اصل فیصلہ سازوں کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا۔
حکومتی وزرا نے گورنر راج کے فیصلے کا دفاع کردیا
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مشترکہ اجلاس آئینی تقاضا پورا کرنے کے لیے بلایا گیا ہے اور اس معاملے پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی بات ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے سوالات کا جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال تشویش ناک ہے اور مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں پر سوال اٹھتے ہیں۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے بھی صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہوئی تھیں، لیکن بعد ازاں دہشت گردی کے واقعات دوبارہ بڑھنے لگے اور شہریوں کے لیے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو ساتھ لے کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کی کوشش کی تھی۔ ان کے مطابق اپیکس کمیٹی کے اجلاس اور مذاکرات کے دوران صوبائی حکومت کو تعاون کی دعوت دی گئی، تاہم مشترکہ حکمت عملی پر عمل درآمد میں مشکلات پیش آئیں۔
محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ وفاق نے پانچ اضلاع میں پولیس آپریشن کے لیے منصوبہ بندی کی تھی اور وفاقی حکومت نے اس کی معاونت کرنا تھی، لیکن صوبائی سطح پر مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہوسکا۔
آئینی جواز پر بھی بحث
پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے گورنر راج کے آئینی جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صدر مملکت کو گورنر کی رپورٹ پر اطمینان حاصل ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ متعلقہ رپورٹ اور اس بنیاد پر کیے گئے فیصلے کی تفصیلات ایوان کے سامنے پیش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امن و امان کی صورت حال گورنر راج کے نفاذ کے لیے کافی ہے تو بلوچستان سمیت دیگر صوبوں میں بھی اسی اصول کا اطلاق زیر بحث آنا چاہیے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی صدارتی سمری اور آئینی تقاضوں پر اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ سے پہلے متعلقہ آئینی شرائط پوری ہونا ضروری ہیں اور اس معاملے پر شفافیت ہونی چاہیے۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے رویوں میں تبدیلی لائے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج کے فیصلے پر نظرثانی کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے، بشرطیکہ سیاسی قیادت سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہو۔
پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے بھی کہا کہ گورنر راج کوئی اچھی صورت حال نہیں، تاہم ان کے مطابق اسے آخری آپشن کے طور پر دیکھا گیا اور مذاکراتی عمل کو کمزور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران سیاسی رابطے
مشترکہ اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی نشست پر جاکر ان سے ملاقات کی اور کچھ دیر گفتگو کی۔ وزیراعظم کے ایوان سے جانے کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی محمود خان اچکزئی سے بات چیت کی۔
اسی دوران عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان بھی گفتگو ہوئی۔
اجلاس میں پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے واقعے میں بچوں اور اساتذہ کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
سیاسی بحران اور صوبائی خودمختاری کا سوال
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد کی منظوری کے باوجود خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا معاملہ سیاسی اختلافات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حکومت اسے امن و امان اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدام قرار دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اسے صوبائی خودمختاری، جمہوری نمائندگی اور آئینی تقاضوں کے تناظر میں چیلنج کررہی ہے۔
اس بحث کا اہم پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی، صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں اور وفاق کے آئینی اختیارات کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور متعلقہ آئینی طریقہ کار پر شفافیت آنے والے دنوں میں اس معاملے کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔






Discussion about this post