کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے صحافی اقرار الحسن کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست پر متعلقہ ادارے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 اکتوبر کو جواب کے لیے طلب کر لیا ہے۔
اقرار الحسن کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں ان پر سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر جھوٹی، من گھڑت اور ریاست مخالف معلومات نشر کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم، ان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کے عدالتی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تفتیشی حکام نے ان کی جسمانی تحویل کے لیے کوئی ٹھوس اور غیر معمولی وجہ پیش نہیں کی۔
عدالت میں کیا ہوا؟
منگل کو اقرار الحسن کو کراچی کی ضلع شرقی کی جوڈیشل مجسٹریٹ ون کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں این سی سی آئی اے نے مزید تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ عدالت نے استدعا کے برعکس چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ انہیں 17 اکتوبر کو دوبارہ پیش کیا جائے اور تفتیش کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔
اس فیصلے کے خلاف اقرار الحسن نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت کراچی شرقی سے رجوع کیا۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ جسمانی ریمانڈ کا حکم کالعدم قرار دیا جائے اور انہیں رہا کیا جائے یا متبادل طور پر جسمانی تحویل کے بجائے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے۔ درخواست میں ضمانت پر رہائی کی استدعا بھی شامل ہے۔
سیشنز عدالت نے درخواست پر این سی سی آئی اے کے وکیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جمعرات، 15 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس مرحلے پر عدالت نے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر حتمی فیصلہ نہیں سنایا۔
اقرار الحسن کے خلاف الزامات کیا ہیں؟
این سی سی آئی اے کی ایف آئی آر کے مطابق، ادارے کو ایک معتبر ذریعے سے اطلاع ملی تھی کہ اقرار الحسن نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مبینہ طور پر جھوٹا، من گھڑت اور ہتک آمیز مواد شائع کیا، جس کا مقصد ریاستی اداروں اور ان کے عہدیداروں کے خلاف عوامی رائے کو مشتعل کرنا تھا۔
ایف آئی آر میں ان کی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں وہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عمران خان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ قرار دیتے ہیں۔
مقدمے میں پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 26 اے شامل کی گئی ہیں، جن کا تعلق جرم کی تعریف میں آنے والے مواد کی تشہیر، سائبر دہشت گردی، کسی فرد کے وقار کے خلاف جرم، سائبر اسٹاکنگ اور جھوٹی معلومات سے ہے۔
ایف آئی آر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعلقہ مواد ریاست اور وفاق کی سالمیت کے لیے نقصان دہ تھا۔ حکام کے مطابق، مبینہ مواد کے اسکرین شاٹس اور اسکرین ریکارڈنگز بھی شواہد کے طور پر محفوظ کیے گئے ہیں۔
یہ الزامات تاحال مقدمے کا حصہ ہیں؛ ان کی قانونی حیثیت اور اقرار الحسن کے خلاف الزامات کا حتمی تعین عدالتی کارروائی کے ذریعے ہونا باقی ہے۔
لاہور میں گرفتاری یا اغوا؟ اہلِ خانہ نے کیا بتایا؟
اقرار الحسن کے اہلِ خانہ کے مطابق، انہیں اتوار کی شب لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے نامعلوم نقاب پوش افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ان کی اہلیہ فرح اقرار نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ افراد گھر میں داخل ہوئے، دروازہ توڑا اور اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے۔
فرح اقرار کے مطابق، ان افراد میں کچھ خواتین بھی شامل تھیں جن کے بازوؤں پر این سی سی آئی اے لکھا ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلِ خانہ نے افراد سے ان کی شناخت اور گرفتاری کے وارنٹ کے بارے میں پوچھا، لیکن انہیں واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق، تقریباً 30 گھنٹے تک انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اقرار الحسن کس ادارے کی تحویل میں ہیں اور انہیں کہاں لے جایا گیا ہے۔ اسی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث اہلِ خانہ نے واقعے کو اغوا قرار دیتے ہوئے ان کی بازیابی کے لیے قانونی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب، پنجاب میں این سی سی آئی اے حکام نے لاہور کی عدالت میں اقرار الحسن کو اپنی تحویل میں لینے کی تردید کی تھی، جبکہ پنجاب حکومت نے بھی کہا تھا کہ وہ پنجاب پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں۔
بعد ازاں، اقرار الحسن کو کراچی کی عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد ان کی تحویل اور مقدمے کی کارروائی سے متعلق صورتِ حال سامنے آئی۔
گرفتاری پر سوشل میڈیا پر بحث
اقرار الحسن کی گرفتاری اور مقدمے نے سوشل میڈیا پر آزادیٔ اظہار، سائبر قوانین کے استعمال اور اختلافی سیاسی رائے کے تحفظ سے متعلق بحث کو جنم دیا ہے۔
بعض صارفین نے معاملے کی شفاف تحقیقات اور مستند شواہد سامنے لانے پر زور دیا، جبکہ دیگر نے گرفتاری پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے اور زیرِ حراست شخص کو اپنے وکلا اور اہلِ خانہ تک رسائی ملنی چاہیے۔
صحافی احمد منصور اور دیگر سوشل میڈیا صارفین نے بھی مقدمے اور اس سے متعلق سامنے آنے والے دعوؤں کی وضاحت کی ضرورت پر بات کی۔ مختلف صارفین نے مصنوعی ذہانت کے مبینہ استعمال سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا بھی ذکر کیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور وضاحت ضروری ہے۔
آزادی اظہار اور سائبر قوانین کا سوال
اقرار الحسن کا معاملہ ایک بار پھر یہ سوال سامنے لاتا ہے کہ سائبر قوانین کے تحت مبینہ غیر قانونی مواد کے خلاف کارروائی اور شہریوں کے آزادیٔ اظہار کے حق کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔
ریاست کو قانون کے تحت جرائم کی تحقیقات اور قابلِ اطلاق قوانین پر عمل درآمد کا اختیار حاصل ہے، لیکن ایسی کارروائی میں شفافیت، قانونی طریقۂ کار اور بنیادی حقوق کا تحفظ بھی اہم ہے۔ اسی طرح کسی صحافی یا عوامی شخصیت کے خلاف الزامات کو ثابت شدہ جرم تصور کرنے کے بجائے عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا ضروری ہے۔
اب توجہ 15 اکتوبر کو سیشنز عدالت میں ہونے والی سماعت پر ہے، جہاں این سی سی آئی اے کا مؤقف سامنے آنے کے بعد جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
اس مقدمے کا آئندہ رخ نہ صرف اقرار الحسن کے لیے اہم ہوگا بلکہ پاکستان میں صحافت، سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے اور سائبر قوانین کے نفاذ سے متعلق جاری بحث پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔






Discussion about this post