اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں بریفنگ کے دوران کہا کہ فلسطینیوں کو روزانہ یہ فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ بھوک سے مریں یا امداد لینے جاتے ہوئے گولیوں کا نشانہ بنیں۔ انہوں نے بتایا کہ مئی سے اب تک 1200 سے زائد فلسطینی صرف امداد حاصل کرنے کی کوشش میں جاں بحق ہوئے، اور امداد کی تقسیم بھی جان لیوا مرحلہ بن گئی ہے۔نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ:
’’غزہ میں 60 ہزار شہریوں کے ساتھ 18 ہزار 500 بچے قتل کیے جا چکے ہیں۔ جنگ کے آغاز سے اب تک ہر گھنٹے میں ایک فلسطینی بچہ قتل ہوا۔‘‘
اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل میراسلوو جینکا نے بھی کہا کہ اسرائیل امداد کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور جو امداد دی جا رہی ہے وہ انتہائی ناکافی ہے۔ غزہ میں بڑھتی بھوک اور قحط کے پیشِ نظر پاکستان نے پیر کو 100 ٹن امدادی سامان روانہ کیا، جس میں ڈبہ بند خوراک، خشک دودھ، بسکٹس اور ادویات شامل ہیں۔ یہ سامان اسلام آباد سے ایک خصوصی پرواز کے ذریعے عمان بھیجا گیا۔








Discussion about this post