امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی بالکل واضح کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے جنگ ہو یا اب مذاکرات، ہمارا ایک ہی حتمی مقصد ہے ۔ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے ہر صورت روکنا۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ رجیم چینج ہمارا اصل ہدف نہیں تھا، لیکن حالات نے خود بخود اس طرف لے گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران عسکری طور پر مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے۔ ان کے پاس میزائل بہت کم رہ گئے ہیں، پیداواری صلاحیت شدید متاثر ہو چکی ہے اور کوئی بیک اپ پلان کی ضرورت نہیں رہی۔انہوں نے امریکی فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا، “ہماری فوج نے جو کام کیا، وہ بہت شاندار تھا۔”ٹرمپ نے آج اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور پوری ٹیم آج مل رہی ہے۔ جو ہوگا ہم دیکھ لیں گے۔ ان کے لیے میری نیک تمنائیں ہیں۔ معاملہ بہت بڑا ہے۔” انہوں نے خلیج اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا، “ہم اب خلیج کو کھول رہے ہیں۔ ایران ساتھ دے یا نہ دے، ہم آبنائے ہرمز کو کھول کر رہیں گے۔ ہم خود تو اسے استعمال نہیں کرتے، دوسرے ممالک کرتے ہیں۔ کچھ ممالک مدد کے لیے سامنے آ چکے ہیں۔” صدر ٹرمپ نے ایران کی موجودہ حالت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نیوی اور ایئر فورس ختم ہو چکی ہے، اینٹی ایئر کرافٹ سسٹم تباہ کر دیے گئے، ان کا لیڈر بھی مارا جا چکا ہے۔ سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ اب دیکھتے ہیں مذاکرات میں کیا نکلتا ہے۔







Discussion about this post