امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر کے عالمی سطح پر ایک اہم اور امید افزا پیش رفت کر دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر بتایا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ہونے والی اہم بات چیت کے نتیجے میں کیا گیا۔ دونوں پاکستانی قائدین نے ایران پر حملے کو مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، جسے امریکہ نے قبول کر لیا۔ سوشل ٹروتھ پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر تیار ہو جاتا ہے تو امریکہ دو ہفتوں تک ایران پر بمباری اور فوجی حملے معطل رکھنے کو تیار ہے۔ انہوں نے اسے باہمی جنگ بندی کا نام دیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ نے اپنے زیادہ تر فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کی راہ میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے مذاکرات کے لیے ایک مضبوط اور قابل عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ تنازع کے بیشتر اہم نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور آئندہ دو ہفتے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے اسے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے جو خطے کو مستقل استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔







Discussion about this post