پاکستان نے ایک بار پھر عالمی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھ دیا ہے۔ سپرپاور امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ تباہ کن جنگ کو روکنے میں پاکستان نے معجزاتی کردار ادا کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت نے پاکستان کی امن کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے سر تسلیم خم کر دیا۔ دونوں ممالک نے پاکستان کے کہنے پر فوری طور پر دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ وہ پاکستان، جسے امریکا نے ایرانی تہذیب کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دی تھیں، آج اسی پاکستان نے ان طاقتوں کو امن کی میز پر بٹھا دیا۔10 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست تاریخی مذاکرات ہوں گے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک، تہذیب یافتہ اور حکمت سے بھرپور کاوشیں رنگ لائیں۔ ان کی دور اندیشی نے نہ صرف خطے کو تباہی سے بچایا بلکہ عالمی امن کی ایک نئی مثال قائم کر دی۔ امریکا اور ایران دونوں نے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے سامنے اظہارِ تشکر کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا جنگ بندی والا بیان عالمی میڈیا کی سرخیاں بن گیا۔دنیا حیران ہے۔ سب نے تسلیم کر لیا کہ جب پاکستان چاہتا ہے تو ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ آج پاکستان نے ثابت کر دیا کہ امن کا راستہ دکھانے کی صلاحیت بھی اسی قوم میں ہے جو تاریخ رقم کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔







Discussion about this post