امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دھواں دھار اور انتہائی جارحانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے ایک بار پھر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ایرانی تیل کے وسائل پر قبضے کا کھلا اعلان کیا بلکہ اہم ترین تنصیبات کو بھی بڑی آسانی سے حاصل کرنے کا دعویٰ کر دیا، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ٹرمپ کا صاف لفظوں میں کہنا ہے کہ "ایرانی تیل پر قبضہ کرنا میرا پسندیدہ آپشن ہے۔” ان کے مطابق امریکہ خارگ جزیرے جیسے اسٹریٹجک برآمدی مرکز کو بھی بہت کم وقت میں اور بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے اپنے قبضے میں لا سکتا ہے، کیونکہ ایران اس مقام پر مؤثر دفاع کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکرز کی تعداد، جنہیں ایران نے اجازت دی ہے، اب بڑھا کر 20 کر دی گئی ہے۔ یہ اضافہ خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کی واضح نشاندہی کر رہا ہے۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان چھو رہی ہیں۔ برطانوی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایران پر مکمل قبضے کے لیے امریکہ کو دس لاکھ فوجیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جبکہ ایرانی حملوں میں امریکہ کا جدید ترین ریڈار سسٹم سے لیس سرویلنس طیارہ تباہ ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں اور متعلقہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے افزودہ یورینیم کے حساس ذخائر پر قبضے کے لیے براہ راست فوجی کارروائی کا آپشن بھی سنجیدگی سے زیر غور لے آئے ہیں۔ یہ ذخائر اصفہان اور نطنز جیسی اہم جگہوں پر موجود ہیں، جہاں امریکی افواج کو کئی دن تک ایرانی سرزمین پر موجود رہنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پس پردہ سفارتی کوششیں جاری ہیں اور ثالثوں کے ذریعے ایران سے بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ایک معاہدہ جلد ممکن ہے، مگر ساتھ ہی فوجی راستہ بھی مکمل طور پر کھلا رکھا گیا ہے۔







Discussion about this post