دادو کی عدالتِ انصاف نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی ہے، مگر اس بار خاموشی سے ایک طوفانِ ظلم کو چھپا لیا۔ امِ رباب چانڈیو کے والد تمندار مختار علی چانڈیو، دادا رئیس کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کے تہرے قتل کے کیس میں ماڈل کرمنل کورٹ نے تمام ملزمان کو بری کر کے ایک ایسا فیصلہ سنایا ہے جو دل دہلا دیتا ہے۔

گزشتہ سماعت میں گواہان کے بیانات، دلائل اور میڈیکل شواہد سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، مگر آج جب فیصلہ آیا تو سچائی کی آواز ایک بار پھر خاموش کر دی گئی۔ عدالت کے باہر امِ رباب چانڈیو کا چہرہ غم سے بھرا تھا، مگر آنکھوں میں ایک ناقابلِ شکست عزم جگمگا رہا تھا۔ انہوں نے کہا، "یہ فیصلہ ریاست کی عدالت کا ہے، مگر عوام کی عدالت میں ہم نے یہ کیس پہلے ہی جیت لیا ہے۔ حقیقت اب ہر دل تک پہنچ چکی ہے۔”ان کا لہجہ مضبوط تھا جب انہوں نے کہا کہ تین سال تک روپوش رہنے والے ملزمان کو بھی کوئی سزا نہ ملنا عجیب ہے۔ "یہ کیس صرف میرے گھر تک محدود نہیں تھا، یہ جاگیرداری کے نظام کے خلاف مظلوم عوام کی جدوجہد کا پرچم تھا۔ آج ہمارے حوصلے آسمان کو چھو رہے ہیں۔”امِ رباب نے پانچوں انگلیوں کی مثال دیتے ہوئے کہا، "انگلین برابر نہیں ہوتیں، اس لیے میں اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع کروں گی۔ میرا عزم انصاف کے لیے پہلے بھی بلند تھا اور آج بھی بلند ہے۔”
بریکنگ
دادو: میہڑ میں ام رباب چانڈیو کے اہلخانہ کے تہرےقتل کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیاگیا
عدالت نے امہ رباب کے دادا، والد اور چاچا کے قتل میں نامزد پیپلزپارٹی کے دو موجودہ اراکین صوبائی اسمبلی سمیت دیگر کو ملزمان کو ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر بری کردیا pic.twitter.com/gIkXWJL18e— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) March 30, 2026
دوسری جانب کیس کے وکیل صلاح الدین پنہور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دل کو چھو لینے والا بیان دیا۔ "سرداری نظام کے خلاف دن دہاڑے تین معصوم جانوں کا خون بہایا گیا۔ کیس میں تین گواہ، میڈیکل شواہد اور ٹھوس ثبوت موجود تھے۔ ہماری نظر میں سزا کا فیصلہ ہونا چاہیے تھا۔” انہوں نے بھی اعلان کیا کہ وہ فوری طور پر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔یاد رہے کہ 17 جنوری 2018 کو یہ دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھا۔ تھانہ میہڑ میں رکنِ سندھ اسمبلی سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو سمیت سات ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ امِ رباب اس وقت سوشل میڈیا اور اخبارات کی سرخیوں میں چھا گئی تھیں جب انہوں نے FIR درج نہ ہونے پر ننگے پاؤں دادو کی عدالت میں پیش ہو کر انصاف کی پکار کی تھی۔اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لے کر کیس کو تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا، مگر آٹھ سال بعد بھی انصاف کی روشنی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔







Discussion about this post