آبنائے ہرمز نے عالمی تیل کی دنیا میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ قیمتیں آسمان چھونے لگی ہیں اور ماہرین کو خدشہ ہے کہ جلد ہی ایک بیرل تیل کی قیمت ۲۰۰ ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو معاشی تاریخ کا سب سے خوفناک ریکارڈ ہو گا۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق دنیا ابھی تک اس بحران کی سنگینی کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ امریکی حکومتی عہدیداروں اور وال اسٹریٹ کے تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ صورتحال اگر خراب ہوئی تو تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین 1980 کی دہائی کے تباہ کن تیل بحران کی یاد دلاتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے ایشیا میں پیدا ہونے والی فیول کی قلت مغربی ممالک کی طرف تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ یورپ اگلے چند ہفتوں میں ڈیزل کی شدید کمی کا شکار ہو سکتا ہے۔ بندش کے نتیجے میں عالمی تیل کی یومیہ سپلائی میں 11.1 ملین بیرل کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل راستوں کے ذریعے 10.9 ملین بیرل یومیہ کا بوجھ کم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، مگر ماہرین کے مطابق یہ اقدامات کافی نہیں ہو سکتے۔

دوسری جانب پولینڈ نے اپنے عوام کو بڑا ریلیف دیا ہے اور تیل و گیس پر ٹیکس میں نمایاں کمی کر دی ہے، تاکہ عام شہری اس عالمی بحران کے جھٹکے برداشت کر سکیں۔ یہ صورتحال اب صرف مشرق وسطیٰ کی نہیں، بلکہ پوری دنیا کی معیشت، صنعت اور عام آدمی کی جیب پر براہ راست حملہ ہے۔ آبنائے ہرمز کی تنگ گزرگاہ ایک بار پھر ثابت کر رہی ہے کہ چند کلومیٹر کا یہ پانی خطہ بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔







Discussion about this post