آبنائے ہرمز کی آگ نے آسٹریلیا تک پہنچ کر عوام کی جیبوں پر شدید دباؤ ڈال دیا، مگر آسٹریلیائی حکومت نے عوام کو فوری اور بڑا ریلیف دینے کا غیر معمولی فیصلہ کر کے ایک بار پھر مثال قائم کر دی ہے۔عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد آسٹریلیا کی حکومت نے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے تاریخی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم انتھونی البانیز کی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر عائد فیول ٹیکس تین ماہ کے لیے نصف کر دیا ہے، جس سے فی لیٹر قیمت میں 26.3 سینٹ کی کمی متوقع ہے۔ اس اقدام سے گاڑی مالکان کو ہر ٹینک بھروانے پر تقریباً 10 سے 20 آسٹریلوی ڈالر کی بچت ہوگی، البتہ قومی خزانے پر 2.55 بلین آسٹریلوی ڈالر کا بوجھ پڑے گا۔ اس سے بھی زیادہ متاثر کن اقدام ریاست وکٹوریا نے اٹھایا ہے۔ میلبورن سمیت پوری ریاست میں اپریل کے پورے مہینے کے لیے ٹرین، ٹرام اور بس سروسز کو مکمل طور پر مفت کر دیا گیا ہے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ جیسنٹا ایلن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام لوگوں کو اپنی گاڑیاں گھر پر رکھنے کی ترغیب دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

جزیرہ نما ریاست تسمانیہ نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ تک تمام کوچز، بسوں، فیری سروسز اور اسکول بسوں کا سفر شہریوں کے لیے بالکل مفت ہوگا۔ اس اقدام سے ایک عام خاندان کو ہفتہ وار تقریباً 20 آسٹریلوی ڈالر کی بچت متوقع ہے۔ تاہم نیو ساؤتھ ویلز سمیت دیگر ریاستوں نے ابھی مفت پبلک ٹرانسپورٹ جیسے بھاری اقدامات سے گریز کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں پیٹرول کی اوسط قیمت بڑھ کر 2.38 آسٹریلوی ڈالر فی لیٹر ہو چکی ہے، جو صرف ایک ماہ قبل 2.09 آسٹریلوی ڈالر تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ایندھن کی قیمتوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی معیشت پر منفی اثرات کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ یہ اقدامات بتاتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی پانی کی گزرگاہ نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور آسٹریلیا نے اس بحران میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا واضح پیغام دیا ہے۔







Discussion about this post