پاکستان دنیا کے دو اہم ممالک کے درمیان تاریخی مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے تو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد مکمل طور پر محفوظ اور منظم فضا میں تبدیل ہو گیا ہے۔ غیر ملکی وفود کی آمد کے پیش نظر وفاقی حکومت اور ٹریفک پولیس نے نہایت سخت سکیورٹی اقدامات کے ساتھ جامع ٹریفک ڈائیورژن پلان نافذ کر دیا ہے۔ ریڈ زون اور توسیعی ریڈ زون کو مکمل طور پر ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ کشمیر چوک سے کلب روڈ کے ذریعے زیرو پوائنٹ جانے والی سرینگر ہائی وے، زیرو پوائنٹ سے سرینا چوک تک کا حصہ، شکر پڑیاں روڈ، جناح ایونیو، فیصل چوک سے ٹریل تھری تک مارگلہ روڈ اور ایکسپریس ہائی وے کے کئی حصے 11 اور 12 اپریل کو بند رہیں گے۔ ٹریفک پولیس نے شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل راستوں کا واضح نقشہ بھی جاری کر دیا ہے۔ جی ٹی روڈ، ٹیکسلا موٹروے، چکری، چک بیلی روڈ اور روات روڈ کو ترجیحی راستوں کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔ لاہور سے پشاور جانے والوں کے لیے بھی متبادل راستے متعین کر دیے گئے ہیں۔ فیصل ایونیو کی ٹریفک نائن ایونیو کی طرف موڑ دی جائے گی جبکہ بھارہ کہو سے آنے والے شہری کورنگ روڈ، بنی گالہ اور لہتراڑ روڈ استعمال کر سکیں گے۔ توسیعی ریڈ زون میں واقع تمام سرکاری اور نجی دفاتر کے ساتھ ساتھ مارکیٹس بھی بند رہیں گی۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ یہ تاریخی میزبانی بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ یہ سخت اقدامات دراصل پاکستان کی طرف سے عالمی سطح پر دی جانے والی ایک بڑی ذمہ داری اور پروفیشنل میزبانی کا حصہ ہیں۔ ایران کا اعلیٰ سطحی وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ چکا ہے اور پاکستان اس اہم سفارتی مشن کو مکمل کامیابی سے انجام دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہا ہے۔








Discussion about this post