عالمی سطح پر کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایرانی بحری جہاز "توسکا” پر قبضے کے خلاف ایران نے اقوام متحدہ میں شدید شکایت درج کرا دی ہے۔ ایران کی جانب سے جاری کردہ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ایک تجارتی جہاز پر قبضہ کرنا غیر قانونی، وحشیانہ اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ نہ صرف عالمی قوانین بلکہ حالیہ جنگ بندی معاہدے کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ جہاز، اس کا پورا عملہ اور ان کے اہل خانہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک طاقتور بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر میں ایرانی جوہری مراکز کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا۔ اب اس ملبے کو ہٹانا ایک طویل اور انتہائی مشکل عمل ثابت ہو گا۔ ٹرمپ نے سی این این سمیت دیگر میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ "فیک نیوز” ہمارے بہادر ہوا بازوں کو وہ کریڈٹ نہیں دے رہے جو انہوں نے واقعی کیا ہے۔ ناکام لوگ ہمیشہ ہماری فوج کی کامیابیوں کو کم کرنے اور گھٹانے کی ناکام کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان جاری تناؤ کو مزید بڑھا رہا ہے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے ایک نئی چیلنج بھی پیش کر رہا ہے۔ دنیا بھر کی نظریں اب اقوام متحدہ کی ردعمل اور آئندہ پیش رفت پر لگی ہوئی ہیں۔







Discussion about this post