پاکستان کے دارالحکومت میں تاریخ کے ایک نازک موڑ پر انتظامیہ نے انتہائی اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان دوسرے دور کے مذاکرات کے پیش نظر اسلام آباد ریڈ زون میں 21 اپریل کو داخلہ مکمل طور پر بند رکھنے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ اس نوٹی فکیشن کے تحت ریڈ زون میں قائم تمام سرکاری اور نجی دفاتر کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کو ورک فرام ہوم کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ 21 اپریل کو ریڈ زون میں کوئی بھی سرکاری یا نجی سرگرمی معمول کے مطابق نہیں چل سکے گی، بلکہ سب کچھ محدود رہے گا۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر ریڈ زون کا رخ نہ کریں اور وہاں کے اداروں کو آن لائن خدمات جاری رکھنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ کسی قسم کی رکاوٹ یا خطرے سے بچا جا سکے۔ یہ اقدام ایران اور امریکا کے حساس مذاکرات کے پیش نظر پاکستان کی طرف سے کی جانے والی پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔

دارالحکومت کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا یہ قدم نہ صرف امن کی فضا برقرار رکھے گا بلکہ عالمی اہمیت کے اس ایونٹ کو بغیر کسی رکاوٹ کے کامیاب بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔ پاکستان ایک بار پھر ثابت کر رہا ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی سطح کے حساس معاملات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والا ملک ہے۔







Discussion about this post