پاکستان کی سرزمین پر ایک بار پھر عالمی سیاست کا سب سے بڑا اور نازک کھیل شروع ہونے والا ہے۔ ایران کے امریکا کے ساتھ انتہائی اہم مذاکرات کے لیے 71 افراد پر مشتمل ایک طاقتور وفد پاکستان پہنچ رہا ہے، جو صرف سفارتی نمائندوں کا گروپ نہیں بلکہ ایک مکمل جنگی حکمت عملی کا مجسمہ ہے۔ اس شاندار وفد میں صرف مذاکرات کار ہی نہیں، بلکہ جدید ترین تکنیکی ماہرین، اعلیٰ سطح کی مشاورتی کمیٹیاں، سخت ترین سیکیورٹی اہلکار اور تجربہ کار میڈیا نمائندے بھی شامل ہیں۔ ہر ممکن زاویے سے ہر لمحے کی رہنمائی کے لیے یہ ٹیم تیار ہے، تاکہ حساس اور پیچیدہ بات چیت میں کوئی بھی لمحہ ضائع نہ ہو۔ وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے باوقار اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اس اہم مشن کے سب سے مضبوط ستون کے طور پر موجود ہیں۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جن کے ساتھ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے۔ یہ وفود نہ صرف طاقت کے توازن کو بدلنے والے ہیں بلکہ خطے کی تقدیر لکھنے والے بھی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی 15 نکاتی تجویز زیر غور ہے، جس میں ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی مضبوط یقین دہانی، افزودہ یورینیم کی حوالگی، دفاعی صلاحیتوں پر ممکنہ پابندیاں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے اہم ترین مطالبات شامل ہیں۔ خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں یہ مذاکرات نہایت اہم اور فیصلہ کن سمجھے جا رہے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ خیر سگالی کے جذبے کے ساتھ آئے ہیں، لیکن امریکا پر بھروسہ نہیں کرتے۔ انہوں نے مذاکرات سے پہلے لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ طے شدہ نکات تھے جن پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر امریکا حقیقی اور ایماندار معاہدہ پیش کرے اور ایران کے حقوق کا مکمل احترام کرے تو ایران معاہدے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی زور دے کر کہا کہ امریکا کو اپنے وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ لبنان میں جنگ بندی کا وعدہ کیا جا چکا ہے، اب اسے پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔







Discussion about this post