ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز میں مکمل محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جائے گی، جس کے لیے ایران کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی اور تمام تکنیکی امور کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی برادرانہ درخواست، امریکہ کی 15 نکاتی تجویز، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو مذاکرات کی بنیاد قبول کرنے کے اعلان کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ایران کی طاقتور مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں فوری طور پر معطل کر دیں گی۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں خاص طور پر پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے اپنے برادر ملک پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان دونوں عظیم قائدین نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے جو انتھک، مخلصانہ اور حکیمانہ کوششیں کی ہیں، ان کے لیے ایران کی قوم اور قیادت ان کے ہمیشہ شکر گزار رہے گی۔” ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی حیثیت کو نمایاں کر دیا ہے۔ جہاں دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے تھیں، وہاں پاکستان نے امن کا پل بن کر ثابت کر دیا کہ اس کی آواز اب عالمی امن کی ضمانت بن چکی ہے۔
Statement on behalf of the Supreme National Security Council of the Islamic Republic of Iran: pic.twitter.com/cEtBNCLnWT
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 7, 2026







Discussion about this post