امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے کا ایک اہم منصوبہ سامنے آ گیا ہے، جسے برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز نے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے تیار کردہ یہ فریم ورک دونوں ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ تجویز میں فوری جنگ بندی کے بعد ایک جامع اور حتمی معاہدہ شامل ہے، جس میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق اقدامات اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ اگر آج ہی بنیادی رضامندی حاصل ہو جائے تو صرف بیس دن میں حتمی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی تجاویز کا مسودہ ایران کو موصول ہو چکا ہے اور اس پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ علاقائی ممالک میں پاکستان، مصر اور ترکیہ ایران کو مذاکرات کی میز تک لانے کی سرگرم کوششیں کر رہے ہیں۔ منصوبے کے دو مراحل پر مشتمل ہونے کی اطلاعات ہیں: پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی جبکہ دوسرے مرحلے میں جامع معاہدہ، جس میں آبنائے ہرمز کی آزادانہ نیویگیشن اور یورینیم افزودگی کا معاملہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت دھمکی دی ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے بجلی گھروں اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پرانی ڈیڈ لائن میں چوبیس گھنٹے کی توسیع کر دی ہے، جو اب پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح پانچ بجے ختم ہوگی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جوابی کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور سویلین انفراسٹرکچر پر کسی بھی حملے کا جواب اسی انداز میں دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ درد صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے میں پھیل جائے گا۔ ایران نے کسی بھی ڈیڈ لائن یا دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ صورتحال خطے میں امن کی امید اور جاری کشیدگی کے درمیان ایک نازک توازن پیدا کر رہی ہے، جہاں پاکستان کی ثالثی کردار ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔







Discussion about this post