جنگ کے شعلوں نے خلیجی آسمان کو پھر سرخ کر دیا ہے۔ ایک بار پھر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی بوچھاڑ نے خلیج کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور کویت میں ہائی الرٹ کا اعلان کر دیا گیا۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے فوری طور پر خطرے کی گھنٹی بجا دی، سائرن کی تیز آوازیں فضا میں گونج اٹھیں اور شہریوں کو حکم دیا گیا کہ وہ فوراً محفوظ پناہ گاہوں کی طرف جائیں۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بڑے اعتماد سے اعلان کیا کہ ان کے فضائی دفاعی ایران سے آنے والے ہر میزائل اور ڈرون کو آسمان میں ہی راکھ بنا رہے ہیں، جیسے آسمان خود ان کا محافظ بن گیا ہو۔ ایرانی سابق سفارت کار عباس عراقچی نے واضح پیغام دیا: "ہمیں ایسی جنگ بندی چاہیے جو دشمن کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع ہی نہ دے۔” سعودی عرب کے صنعتی شہر جبیل میں ایک خوفناک منظر سامنے آیا، جہاں پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پر حملہ ہوا اور زبردست آگ بھڑک اٹھی، آسمان تک شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ ایرانی میڈیا نے اسے بڑی آگ قرار دیا، جبکہ سعودی وزارت دفاع نے بتایا کہ مشرقی علاقے کی طرف آنے والے سات بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا گیا، مگر ان کے ملبے نے توانائی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا دیا۔ اس دوران کویت کے علی السالم فضائی اڈے پر ایرانی ڈرون حملے نے دہشت کا ماحول پیدا کر دیا، جہاں 15 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہو گئے۔ امریکی عہدیداروں نے خود اس تصدیق کی ہے، جو اس تنازعے کی شدت کو مزید بڑھا رہی ہے۔







Discussion about this post