کچھ کھلاڑی فٹبال کھیلتے ہیں، کچھ فٹبال کی تاریخ بناتے ہیں اور پھر کچھ ایسے ہوتے ہیں جو خود ایک پورا عہد بن جاتے ہیں۔
لیونل میسی کا ارجنٹائن کی قومی ٹیم سے الوداع بھی اسی آخری قسم کی کہانی ہے۔
بیونس آئرس کے مونومینٹل اسٹیڈیم میں 85 ہزار سے زائد تماشائی صرف ایک فٹبال میچ دیکھنے نہیں آئے تھے۔ وہ اپنے اُس کھلاڑی کو آخری بار قومی لباس میں دیکھنے آئے تھے جس کے ساتھ ارجنٹائن نے مایوسی بھی دیکھی، شکست بھی سہی، تنقید بھی کی اور بالآخر وہ کامیابیاں بھی حاصل کیں جن کا برسوں انتظار تھا۔
ارجنٹائن نے بینن کو صفر کے مقابلے میں تین گول سے شکست دی لیکن اس رات اصل اسکور بورڈ پر نہیں تھا۔
اصل کہانی میسی کے گرد لکھی جا رہی تھی۔
21 سال پہلے قومی ٹیم کے ساتھ شروع ہونے والا سفر اب اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اس دوران میسی نے 208 میچ کھیلے، 126 گول کیے اور ارجنٹائن کی جانب سے سب سے زیادہ میچز کھیلنے اور گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا میسی کی میراث صرف ان اعداد و شمار تک محدود ہے؟
شاید نہیں۔
کیونکہ میسی کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ نہیں کہ انہوں نے کتنے گول کیے بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسی ٹیم کو دوبارہ یقین دلایا جس نے ایک وقت میں اپنے سب سے بڑے اسٹار کے ساتھ بھی کامیابی کا راستہ کھو دیا تھا۔
کبھی میسی پر الزام لگتا تھا کہ وہ بارسلونا میں تو کمال دکھاتے ہیں لیکن ارجنٹائن کے لیے وہی جادو کیوں نہیں چلا پاتے؟
پھر کوپا امریکا آیا۔
اس کے بعد ورلڈ کپ آیا۔
اور پھر وہ سوال تقریباً ختم ہوگیا۔
جو کھلاڑی ایک زمانے میں قومی ٹیم کی ناکامیوں کی علامت بنا دیا گیا تھا وہی بالآخر ارجنٹائن کی سب سے بڑی کامیابیوں کا چہرہ بن گیا۔
اسی لیے بینن کے خلاف آخری میچ میں میسی کا ایک گول اور دو معاونتیں محض اعداد نہیں تھے۔ یہ اس سفر کی ایک علامتی تصویر تھی۔
پہلے ساتھی کے لیے موقع بنانا، پھر اپنی باری پر گیند کو جال میں پہنچانا۔
جیسے میسی اپنے 21 سالہ کیریئر کا خلاصہ چند لمحوں میں سنا رہے ہوں۔
میچ سے پہلے بیونس آئرس کی عمارتیں آسمانی اور سفید رنگ میں روشن تھیں جبکہ روزاریو میں ان کے نام اور 10 نمبر والی بڑی شرٹ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی۔
یہ مناظر اس بات کا ثبوت تھے کہ میسی اب صرف ایک فٹبالر نہیں رہے۔
وہ ارجنٹائن کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن چکے ہیں۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے آخری میچ میں شکست کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ ارجنٹائن نے جیت حاصل کی، میسی نے گول کیا، ساتھیوں کے لیے مواقع بنائے اور پھر ایک شاندار ڈرون شو اور موسیقی کے ساتھ انہیں الوداع کہا گیا۔
لیکن ہر عظیم کہانی کی طرح یہاں بھی ایک سوال باقی ہے۔
میسی کے بعد کیا ہوگا؟
ارجنٹائن کے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ نئی نسل سامنے آ رہی ہے، نئے نام قومی ٹیم کا حصہ بن رہے ہیں۔ مگر میسی جیسا کھلاڑی صرف ٹیم میں جگہ نہیں لیتا، وہ ٹیم کے گرد ایک پوری شناخت بنا دیتا ہے۔
یہ خلا کسی ایک کھلاڑی کے لیے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔
شاید اسی لیے مونومینٹل اسٹیڈیم کی اس رات کو صرف ایک میچ کا اختتام سمجھنا غلط ہوگا۔
یہ ایک ایسے دور کا اختتام ہے جس میں ایک بچے نے روزاریو سے سفر شروع کیا، دنیا کے عظیم ترین فٹبال اسٹیجز پر نام بنایا، اپنے ملک کے لیے طویل انتظار کے بعد بڑی ٹرافیاں جیتیں اور پھر اپنے آخری قومی میچ میں بھی وہی کیا جو وہ برسوں سے کرتے آئے تھے۔
گول کیا۔
گول بنوایا۔
اور تاریخ کا حصہ بن گئے۔
فٹبال آگے بڑھ جائے گا، ارجنٹائن نئی ٹیم بنائے گا، نئے ستارے سامنے آئیں گے۔
لیکن میسی کے بعد جب بھی ارجنٹائن کی قومی ٹیم میدان میں اترے گی، ایک سوال شاید ہمیشہ موجود رہے گا:
کیا فٹبال کی تاریخ میں دوبارہ کبھی کوئی کھلاڑی اپنے ملک کے لیے اتنا بڑا بن سکے گا جتنا لیونل میسی بن گیا؟






Discussion about this post