اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات میں تیزی نے سیاسی صورتحال کے ساتھ ساتھ معاشی اور کاروباری حلقوں کی توجہ بھی حاصل کرلی ہے۔
ذرائع کے مطابق تینوں شہروں میں اضافی پولیس نفری پہنچنا شروع ہوگئی ہے جبکہ اہم شاہراہوں پر کنٹینرز بھی اسٹینڈ بائی رکھے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں 22 ہزار سے زائد اہلکاروں کی تعیناتی کی تیاری ہے جبکہ راولپنڈی میں 13 ہزار سے زائد اور اٹک میں 30 ہزار اہلکار تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔راولپنڈی پولیس کو سیکڑوں کنٹینرز تحویل میں لینے کا ہدف بھی دیا گیا ہے جبکہ اضافی فورس کے قیام کے لیے اسلام آباد میں 100 سے زائد عمارتوں کا سروے مکمل کیا جاچکا ہے۔
یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں سیاسی سرگرمیوں اور ممکنہ احتجاج کے باعث ملک میں غیر یقینی کی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔
لانگ مارچ کا اسٹاک مارکیٹ سے کیا تعلق ہے؟
پاکستان اسٹاک ایکسچینج براہِ راست سیاسی احتجاج سے نہیں بلکہ سیاسی غیر یقینی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے اعتماد، کاروباری سرگرمی اور مستقبل کے معاشی فیصلوں سے متاثر ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی اسٹاک مارکیٹ پہلے ہی عالمی اور علاقائی عوامل کے دباؤ میں ہے۔ ایسے ماحول میں اگر ملک کے اندر سیاسی کشیدگی بھی بڑھتی ہے تو مارکیٹ پر اس کے اثرات زیادہ واضح ہوسکتے ہیں۔
پہلا ممکنہ اثر: سرمایہ کاروں میں محتاط رویہ
سرمایہ کار یہ دیکھتے ہیں کہ سیاسی صورتحال کتنی دیر تک جاری رہ سکتی ہے۔ کیا اہم شاہراہیں بند ہوسکتی ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی یا نہیں اور حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی کس سمت جاتی ہے۔ایسی غیر یقینی صورتحال میں کچھ سرمایہ کار نئی خریداری مؤخر کرسکتے ہیں یا منافع لینے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں 100 انڈیکس پر فروخت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
دوسرا اثر: کاروباری سرگرمی اور مارکیٹ liquidity
اگر اسلام آباد، راولپنڈی یا دیگر شہروں میں احتجاج کے باعث سڑکوں، ٹرانسپورٹ یا کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ آتی ہے تو اس کا اثر مجموعی اقتصادی سرگرمی پر پڑ سکتا ہے۔
اس کااسٹاک مارکیٹ پر فوری اثر لازمی نہیں لیکن اگر صورتحال طویل ہوتی ہے تو سرمایہ کار کمپنیوں کی فروخت، سپلائی چین، لاجسٹکس اور کنزیومر ایکٹیویٹی پر ممکنہ اثرات کو بھی قیمتوں میں شامل کرنا شروع کرسکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ کمپنیاں جن کا کاروبار شہری سرگرمی، ٹرانسپورٹ، ریٹیل یا سپلائی چین سے زیادہ وابستہ ہے۔ ان کے بارے میں مارکیٹ کی حساسیت بڑھ سکتی ہے۔
تیسرا اثر: غیر ملکی سرمایہ کار
سیاسی استحکام غیر ملکی سرمایہ کارون کے لیے بھی ایک اہم جز ہوتا ہے۔ اگر احتجاج محدود مدت تک رہتا ہے اور کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہتی ہیں تو اس کا اثر نسبتاً محدود ہوسکتا ہے لیکن اگر احتجاج طویل ہوجاتا ہےتو بڑے شہروں میں کاروباری سرگرمی متاثر ہوتی ہے یا سیاسی بحران مزید گہرا ہوتا ہے تو غیر ملکی سرمایہ کار risk exposure کم کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔
اس صورتحال میں روپے، بانڈز اور ایکویٹیز سمیت مختلف مالیاتی مارکیٹس میں sentiment متاثر ہوسکتا ہے۔
چوتھا اثر: حکومت کی معاشی پالیسی پر توجہ
مارکیٹ صرف احتجاج کو نہیں دیکھے گی بلکہ یہ بھی دیکھے گی کہ حکومت اس صورتحال کو کس طرح سنبھالتی ہے۔ اگر سیاسی کشیدگی کے باوجود معاشی پالیسی، آئی ایم ایف سے کئے گئے وعدے، معاشی ٹارگٹس اور دیگر اقتصادی اقدامات معمول کے مطابق آگے بڑھتے رہیں تو مارکیٹ کا ردعمل محدود رہ سکتا ہے۔
اس کے برعکس اگر سیاسی بحران کے باعث اہم معاشی فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے یا غیریقینی بڑھتی ہے تو انویسٹرز کے لیے risk perception میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ پر صرف سیاست اثر انداز نہیں ہوگی
موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسٹاک مارکیٹ کے لیے سیاسی خبریں واحد فیکٹر نہیں ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں عالمی تیل کی قیمتیں، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور تیل کی سپلائی بھی مارکیٹ کے لیے اہم عوامل رہے ہیں۔ اس لیے اگر سیاسی کشیدگی کے ساتھ عالمی تیل کی قیمتیں بھی بلند رہتی ہیں تو اسٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی کا ماحول مزید بڑھ سکتا ہے۔
اصل سوال کیا ہے؟
اسٹاک مارکیٹ کے لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ لانگ مارچ ہوتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہوگا کہ سیاسی صورتحال کتنی دیر تک جاری رہتی ہے؟ احتجاج کاروباری سرگرمی کو کس حد تک متاثر کرتا ہے؟ اور حکومت و سیاسی فریق صورتحال کو کتنی جلدی معمول پر لاتے ہیں؟
مختصر مدت میں سیاسی غیر یقینی 100 انڈیکس میں volatility اور محتاط ٹریڈنگ کا باعث بن سکتی ہے تاہم مارکیٹ کی سمت کا تعین صرف سیاسی صورتحال سے نہیں ہوگا۔ تیل کی قیمتیں، شرح سود، روپے کی قدر، بیرونی کھاتہ، آئی ایم ایف پروگرام، کارپوریٹ ارننگز اور عالمی مارکیٹس بھی اسٹاک مارکیٹ کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔ یعنی ممکنہ لانگ مارچ اسٹاک مارکیٹ کے لیے ایک اضافی رسک فیکٹر بن سکتا ہے لیکن اس کے حقیقی اثر کا انحصار احتجاج کی شدت، دورانیے اور اس کے ساتھ پیدا ہونے والی معاشی غیر یقینی پر ہوگا۔






Discussion about this post