وفاقی اینٹی کرپشن عدالت کراچی میں ٹڈاپ کرپشن کیسز کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت 50 سے زائد ملزمان کو باقی 14 مقدمات سے بھی بری کر دیا۔ اس سے قبل گیلانی 12 مقدمات میں پہلے ہی بری ہو چکے تھے۔ عدالت کی جج ڈاکٹر شبانہ وحید نے ریمارکس دیے کہ اگر آج فیصلہ نہ ہوتا تو ان مقدمات کو نمٹانے میں مزید 14 سال لگ سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گیلانی کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم نہیں آئی، اس لیے ان کے خلاف کوئی مالی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی۔ یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ برسوں گزرنے کے باوجود پراسیکیوشن مقدمات کو آگے نہیں بڑھا رہی تھی، اس لیے ملزمان نے بریت کی درخواست دائر کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ آڈیٹر رضوانی کے پاس بھی ملزمان کے خلاف کوئی شواہد موجود نہیں۔ عدالت نے کہا کہ 13 سال سے مقدمات التوا کا شکار تھے، اب تفصیل سے تمام فائلوں کا جائزہ لیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ زیادہ تر افراد رقوم واپس کرنے کے لیے تیار ہیں اور کسی کو بلاوجہ مزید قانونی پیچیدگیوں میں نہیں الجھایا جا سکتا۔ ایف آئی اے نے یہ مقدمات 2013 میں درج کیے تھے جن میں الزام تھا کہ بوگس کمپنیوں کے ذریعے فریٹ سبسڈی کی مد میں 7 ارب روپے کی کرپشن کی گئی۔ یوسف رضا گیلانی کو 2015 میں ان مقدمات میں بطور ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ عدالت نے تمام شواہد اور دلائل سننے کے بعد ملزمان کو بری کر دیا اور مفرور ملزمان کا کیس علیحدہ کر دیا گیا۔







Discussion about this post