امریکا، جو کبھی دنیا بھر کے طلبہ کے خوابوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا، اب اپنی سخت پالیسیوں کے باعث اُن خوابوں کو چکناچور کرنے لگا ہے۔ اگست 2025 میں امریکا نے طلبہ کے ویزوں میں تقریباً پانچواں حصہ یعنی 19 فیصد کمی کردی اور یہ کمی کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی امیگریشن حکمتِ عملی کا واضح ثبوت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، امریکا نے اگست میں 3 لاکھ 13 ہزار 138 طلبہ ویزے جاری کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں سال سب سے بڑا جھٹکا بھارتی طلبہ کو لگا، جن کے ویزوں میں 44.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یوں بھارت اپنی برسوں پرانی پہلی پوزیشن کھو بیٹھا، اور چین ایک بار پھر امریکی یونیورسٹیوں کو طلبہ بھیجنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ امریکا نے اگست میں چین کے مین لینڈ سے 86 ہزار 647 طلبہ کو ویزے جاری کیے ۔ یہ تعداد بھارتی طلبہ کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہے۔ اگرچہ چینی طلبہ کے ویزوں میں بھی معمولی کمی آئی، مگر وہ اثر اتنا شدید نہیں تھا جتنا بھارت پر پڑا۔ یہ اعداد و شمار صرف نئے ویزوں سے متعلق ہیں، کیونکہ ہزاروں غیر ملکی طلبہ پہلے ہی پرانے ویزوں پر امریکا میں موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ نے دوبارہ وائٹ ہاؤس سنبھالتے ہی امیگریشن پر نکیل کسنے، اور امریکی جامعات کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کا بیڑا اٹھا لیا۔ ان کی انتظامیہ کے نزدیک یونیورسٹیاں “بائیں بازو کا گڑھ” بن چکی ہیں، جنہیں قابو میں لانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ جون میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے، ویزا پروسیسنگ کے عروج کے دوران، طلبہ ویزوں کی کارروائی اچانک عارضی طور پر معطل کر دی۔ سفارتخانوں کو حکم دیا گیا کہ ہر درخواست گزار کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی چھان بین کی جائے۔ اس کے بعد ہزاروں طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے گئے خاص طور پر وہ طلبہ جنہوں نے اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ روبیو کے مطابق، ایسے افراد کو داخلے سے روکا جا سکتا ہے جو امریکا کی خارجہ پالیسی سے “متصادم نظریات” رکھتے ہوں۔ بھارتی طلبہ کے لیے صورتحال مزید دشوار ہوگئی ہے۔ اب وہ اپنے ملک میں امریکی قونصل خانے کے دائرہ اختیار سے باہر کسی دوسرے ملک میں ویزے کے لیے درخواست نہیں دے سکتے، چاہے وہاں بیک لاگ ہی کیوں نہ ہو۔ دلچسپ طور پر، ٹرمپ انتظامیہ بھارت کے خلاف سخت اور چین کے لیے نرم رویہ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔

ایک طرف بھارتی شہریوں پر ایچ-ون بی ورک ویزوں کی فیس میں بھاری اضافہ کیا گیا، تو دوسری جانب ٹرمپ نے چینی طلبہ کی تعداد بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ یہ مؤقف ان کے اپنے وزیرِ خارجہ روبیو کے موقف سے بالکل برعکس ہے، جنہوں نے چینی طلبہ پر ٹیکنالوجی ۔چوری کے الزامات لگاتے ہوئے ان کے ویزے مزید محدود کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تازہ ترین اعداد و شمار ایک اور تشویشناک حقیقت بھی ظاہر کرتے ہیں ۔ مسلم اکثریتی ممالک سے طلبہ کے ویزے تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ ایران سے طلبہ داخلے 86 فیصد تک گر گئے ہیں، جو ٹرمپ پالیسی کی سمت کو واضح کرتے ہیں۔







Discussion about this post