عالمی بحری تاریخ کے ایک اہم موڑ پر، امریکی جریدے نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے جو پوری صورتحال کو الٹا کر کے رکھ دیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز آسانی سے آبنائے ہرمز عبور کر گئے، جو نہ صرف امریکی حکام کے دعوؤں کو چیلنج کر رہا ہے بلکہ عالمی طاقت کے توازن کو بھی سوالات کے گھیرے میں ڈال رہا ہے۔ یہ پیش رفت بالکل اس وقت سامنے آئی جب امریکا دنیا بھر کو بتا رہا تھا کہ آبنائے ہرمز پر اس کی سخت ترین نگرانی اور مکمل کنٹرول قائم ہے۔ سینٹ کام نے پہلے 24 گھنٹوں میں صرف 6 جہازوں کو واپس بھیجنے اور کوئی ایرانی جہاز نہ گزرنے کا اعلان کیا تھا، مگر اب ایک امریکی جریدے کی رپورٹ نے ان تمام دعوؤں کو شدید دھچکا پہنچا دیا ہے۔ امریکی فوج نے 10 ہزار سے زائد سیلرز، میرینز اور ایئر مین تعینات کر رکھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی صرف ایران سے جڑی نقل و حرکت پر ہے، جبکہ خلیج کی باقی تمام بندرگاہیں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھلی ہوئی ہیں۔ مگر جب حقیقت خود بولتی ہے تو بڑے بڑے دعوے بھی دھندلا جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان متضاد بیانات نے نہ صرف صورتحال کو انتہائی غیر یقینی بنا دیا ہے بلکہ عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کی معاشی استحکام کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز جہاں دنیا کا تقریباً ایک تہائی تیل گزرتا ہے ، ایک بار پھر ثابت کر رہا ہے کہ طاقت کے زور پر سمندروں کو بھی قید نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت ہمیشہ اپنا راستہ خود ڈھونڈ لیتی ہے، چاہے کتنے بھی مضبوط قلعے کھڑے کر لیے جائیں۔







Discussion about this post