امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خلاف جاری آپریشن پر ایک اہم بیان دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا کی فوجی کارروائی بالکل شیڈول کے مطابق یا اس سے بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ جنگ مہینوں تک نہیں چلے گی بلکہ صرف چند ہفتوں میں اپنے مطلوبہ فوجی مقاصد حاصل کر کے مکمل ہو جائے گی۔

فرانس میں جی7 ممالک کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ اگرچہ امریکا اپنے تمام اہداف کو زمینی فوج کے بغیر بھی حاصل کر سکتا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کو زیادہ سے زیادہ لچک اور اختیارات دینے کے لیے خطے میں چند محدود فوجی دستوں کی تعیناتی کی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے خطے میں ہزاروں میرینز پر مشتمل دو دستے بھیجے ہیں، جن میں سے ایک بڑا ایمفیبیئس اسالٹ جہاز کے ذریعے مارچ کے آخر تک پہنچنے والا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں ایلیٹ ایئر بورن فوجیوں کی تعیناتی بھی متوقع ہے۔ یہ اقدامات اگرچہ فوجی تیاری کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم بعض حلقوں میں خدشہ پیدا کر رہے ہیں کہ فضائی کارروائی کہیں طویل زمینی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔ مارکو روبیو نے مزید بتایا کہ امریکا اب بھی ایران کی جانب سے اس ہفتے بھیجی گئی 15 نکاتی تجویز کا باضابطہ جواب منتظر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں طرف سے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے اور ایرانی حکومت کی جانب سے کچھ معاملات پر بات چیت کی آمادگی کے مثبت اشارے ملے ہیں۔ تاہم واشنگٹن ابھی یہ واضح جاننا چاہتا ہے کہ بات کس سے ہوگی، کن موضوعات پر ہوگی اور یہ عمل کب شروع ہوگا۔ دوسری جانب ایران نے عوامی طور پر اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے، لیکن رائٹرز کے ذرائع کے مطابق ایرانی حکام تیسرے ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایرانی عہدیداروں کا موقف ہے کہ امریکی تجویز میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام ختم کرنے سے لے کر آ بنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول چھوڑنے تک کے سخت مطالبات شامل ہیں، جو زیادہ تر امریکی اور اسرائیلی مفادات کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سفارت کاری کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کو ثالثوں کے ذریعے اطلاع ملی ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی تجویز ممکنہ طور پر جمعے کے بعد موصول ہو سکتی ہے۔







Discussion about this post