ایران نے مشرق وسطیٰ میں تنازع کو ایک نئی شدت دی ہے اور متعدد محاذوں پر ایک ساتھ طاقتور جوابی حملے کیے ہیں، جن میں اسرائیل، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیل پر ایرانی فوج نے کلسٹر میزائلوں کا ایک اور زور دار وار کیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب اور آس پاس کے علاقوں میں شدید دھماکے ہوئے۔ ایک اسرائیلی شہری ہلاک ہوا جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن گونج اٹھے اور لوگ فوری طور پر شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ روسی میڈیا کے مطابق ایرانی میزائلوں نے تل ابیب کی کثیر المنزلہ عمارتوں اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
An Iranian missile hit the Prince Sultan airbase in Saudi Arabia on Friday, damaging several U.S. refueling aircraft. pic.twitter.com/xLQHiLUzbd
— World Source News (@Worldsource24) March 27, 2026
کویت میں ایرانی حملوں نے الشویخ بندرگاہ کو شدید متاثر کیا۔ ایرانی میڈیا اور پاسداران انقلاب کے دعووں کے مطابق اس بندرگاہ پر امریکا کے چھ ٹیکٹیکل جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے تین سمندر میں غرق ہو گئے جبکہ باقی تین میں آگ لگ گئی۔ تاہم کویتی حکام نے صرف مادّی نقصان کی تصدیق کی اور انسانی جانوں کے نقصان کی تردید کی۔دبئی کے ساحل اور ایک ہوٹل پر بھی ایرانی خودکش ڈرونز نے حملہ کیا، جسے پاسداران انقلاب نے "وعدہ صادق چہارم” آپریشن کی 84ویں لہر قرار دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں کئی امریکی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔سعودی عرب میں سلطان ائیر بیس (پرنس سلطان ایئر بیس) پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملے میں امریکا کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ متعدد ری فیولنگ طیارے متاثر ہوئے اور بارہ امریکی اہلکار زخمی ہو گئے، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔یہ حملے ایران کی جانب سے جاری جوابی کارروائی کا حصہ ہیں، جو علاقائی تناؤ کو مزید بڑھا رہے ہیں اور عالمی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی نازک مرحلے پر پہنچ چکی ہے، جہاں فوجی اقدامات اور سفارتی کوششوں کا توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔







Discussion about this post