اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمدکا کہنا ہے کہ کہ افغانستان کی سرزمین پر اب بھی دہشت گرد گروہوں کے 60 سے زائد کیمپ فعال ہیں، جو براہِ راست پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ سفیر عاصم افتخار نے واضح کیا کہ طالبان حکام کو انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں ہر صورت پوری کرنی ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیمیں، جن میں داعش-خراسان، القاعدہ، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، ای ٹی آئی ایم، کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور کالعدم مجید بریگیڈ شامل ہیں، افغان پناہ گاہوں سے سرگرم ہیں اور یہ کیمپس سرحد پار دراندازی اور حملوں کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔
The Taliban authorities must also fulfill their international obligations on counter terrorism. Terrorism emanating from Afghanistan remains the gravest threat to Pakistan’s national security. Terrorist entities including ISIL-K, Al-Qaeda, TTP, ETIM, BLA and the Majeed Brigade… pic.twitter.com/bUeZBwxoXl
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) September 17, 2025
پاکستانی مندوب نے مزید بتایا کہ اسلام آباد کے پاس ایسے مستند شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروہ ایک دوسرے کے ساتھ گہرے روابط رکھتے ہیں۔ ان روابط میں مشترکہ تربیت، غیر قانونی اسلحہ کی اسمگلنگ، دہشت گردوں کو پناہ دینا اور مربوط حملوں کی منصوبہ بندی شامل ہے، جن کا مقصد پاکستان کے شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر عالمی پابندیاں عائد کرنے کی درخواست بھی جمع کرائی ہے۔ سفیر عاصم افتخار نے زور دیا کہ طالبان حکومت کو دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنی ہوں گی، جبکہ عالمی برادری پر بھی لازم ہے کہ وہ افغانستان کو پرامن اور مستحکم ملک بنانے کے لیے عملی کردار ادا کرے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ کابل کو صاف طور پر بتا دیا گیا ہے:
“افغان سرزمین یا تو دہشت گردوں کے لیے ہوگی یا پاکستان کے ساتھ تعلقات کے لیے، دونوں ممکن نہیں۔”







Discussion about this post