بچوں کی ذہنی اور تعلیمی نشوونما کو محفوظ بنانے کے لیے انگلینڈ میں ایک اہم اور دور رس قدم اٹھایا جا رہا ہے، جہاں حکومت نے اسکولوں میں اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی کو باقاعدہ قانونی شکل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ برطانوی وزیرِ تعلیم بیرونس جیکی اسمتھ نے ایوانِ بالا میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت چلڈرنز ویل بینگ اینڈ اسکولز بل میں ترمیم لا کر اس پالیسی کو مضبوط بنیاد فراہم کرے گی، تاکہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط اور توجہ کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام درحقیقت ان اسکولوں کے لیے تقویت کا باعث بنے گا جو پہلے ہی طلبہ کو موبائل فونز سے دور رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، اور اب انہیں اس عمل کے لیے مکمل قانونی پشت پناہی حاصل ہو جائے گی۔

رواں برس کے آغاز میں ایجوکیشن سیکریٹری بریجٹ فلپس بھی واضح ہدایات جاری کر چکی ہیں کہ طلبہ کو اسکول کے پورے دن کے دوران موبائل فونز سے دور رکھا جائے، تاکہ وہ اپنی تعلیم پر مکمل توجہ مرکوز کر سکیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یورپ کے دیگر ممالک بھی اسی سمت میں پیش قدمی کر رہے ہیں، جہاں فرانس 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جو اس عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے کہ نئی نسل کو ڈیجیٹل اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔ سیاسی حلقوں میں بھی اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے، کنزرویٹو ایجوکیشن سیکریٹری لورا ٹراٹ نے اس ترمیم کو ایک شاندار پیش رفت قرار دیا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے اس پابندی کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ دوسری جانب برطانیہ کے مختلف حصوں میں صورتحال قدرے مختلف ہے، اسکاٹ لینڈ میں 2024 کے بعد سے ہیڈ ٹیچرز کو اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی کا اختیار دیا جا چکا ہے، جبکہ ویلز میں بھی اگرچہ کوئی باقاعدہ پابندی نہیں، لیکن تعلیمی سربراہان کو اس حوالے سے مکمل اختیار حاصل ہے۔







Discussion about this post