حکومت پاکستان نے ایک اہم اور دور اندیش فیصلہ کرتے ہوئے موجودہ ماہ کے آخر تک متحدہ عرب امارات کو دو ارب ڈالر واپس کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں محفوظ تھی اور اس پر چھ فیصد کے قریب سود ادا کیا جا رہا تھا، جو ملک کے لیے مالی طور پر کافی مہنگا پڑ رہا تھا۔ مالیاتی وزارت کے مطابق یہ اقدام مہنگے سود کے بوجھ کو کم کرنے اور ملکی معیشت کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے دی گئی یہ سہولت پچھلے کئی سالوں سے سالانہ بنیاد پر رول اوور ہوتی رہی تھی، لیکن حالیہ مہینوں میں اس کی مدت مختصر کر دی گئی تھی اور دسمبر 2025 میں صرف ایک ماہ کے لیے بڑھائی گئی۔ اس کے بعد یہ ماہانہ بنیادوں پر جاری رہی۔

وزارت نے میڈیا میں بیرونی مالی بہاؤ کے حوالے سے پھیلائی جانے والی قیاس آرائیوں کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت غیر ملکی زرمبادلہ کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ ملکی معیشت کا استحکام برقرار رہے اور کسی بھی قسم کا غیر ضروری دباؤ پیدا نہ ہو۔یہ فیصلہ نہ صرف مہنگے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مالیاتی تعلقات کو بھی مزید مستحکم اور شفاف بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حکومت کی یہ پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ حکمت عملی ملکی معیشت کو بہتر سمت دینے اور بین الاقوامی سطح پر اعتماد برقرار رکھنے کی طرف ایک شاندار اقدام ہے، جو آنے والے دنوں میں مثبت نتائج لائے گی۔







Discussion about this post