صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت لہجے میں کہہ دیا ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر واپس لوٹے یا نہ لوٹے، انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ فلوریڈا سے واپسی پر جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "مجھے اس کی بالکل پرواہ نہیں کہ وہ واپس آتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ نہیں آتے تو بھی مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔” اسی دوران امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد تیل بردار جہازوں نے اس خطرناک راستے سے گزرنے سے مکمل گریز کرنا شروع کر دیا ہے۔ ناکہ بندی آج سے نافذ ہو رہی ہے، جس کے باعث عالمی تیل کی نقل و حرکت پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ٹرمپ نے ایک تازہ بیان میں نہ صرف ایران بلکہ پوپ لیو پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جرائم کے خلاف کمزور رویہ رکھتے ہیں اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ناقابلِ یقین حد تک ناقص ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، "پوپ لیو بنیاد پرست بائیں بازو کی حمایت بند کر دیں۔ میرا نہیں خیال کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں اور میں ان کا فین بالکل نہیں ہوں۔” یہ بیانات ایران کے خلاف جاری تناؤ کو مزید شدت دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں جنگ چھڑ گئی تھی، جسے روکنے کے لیے پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے دو ہفتے کی جنگ بندی کروائی گئی اور پھر اسلام آباد میں مذاکرات کی میز بھی سجائی گئی۔ مگر بدقسمتی سے وہ مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے، اور اب صورتحال ایک بار پھر انتہائی نازک اور غیر متوقع موڑ پر پہنچ چکی ہے۔







Discussion about this post