امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تاریخ کے دھڑکتے لمحات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کے باوجود انہوں نے دنیا کو حیران کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی تازہ ترین رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر نے اپنے قریبی معاونین سے صاف لفظوں میں فرمایا کہ آبنائے ہرمز بند رہے یا کھلا، ایران کی جنگ کا خاتمہ اب ان کا سب سے بڑا مشن ہے۔ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کا خیال ہے کہ اس تنازع کو فوجی طاقت سے حل کرنے کی کوشش اسے چار سے چھ ہفتوں کی متوقع ٹائم لائن سے کہیں آگے دھکیل دے گی۔ اس لیے صدر کے پاس موجود طاقتور فوجی اختیارات ان کی ترجیح نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا اور شاندار حکمت عملی ان کے مدنظر ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ امریکا سب سے پہلے ایران کی بحریہ اور میزائل نظام کو ناکارہ بنا کر اپنے اہداف حاصل کرے گا۔ پھر تہران پر سفارتی دباؤ کا طوفان برپا کر کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوایا جائے گا اور دشمنی کا یہ طویل باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے گا۔ اگر ایران نے اس راستے پر چلنے سے انکار کیا تو واشنگٹن اپنے یورپی اور خلیجی اتحادیوں پر زبردست دباؤ ڈالے گا تاکہ وہ مل کر آبنائے کو فوری طور پر کھلوا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایک واضح اور دھمکی آمیز پیغام بھی دیا ہے کہ اگر اگلے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز نہیں کھلی تو ایران کے بنیادی شہری انفراسٹرکچر پر تباہ کن حملے شروع کر دیے جائیں گے۔







Discussion about this post