امریکا نے ایک بار پھر ایران کو واضح اور سخت پیغام دیا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری کے بنیادی مقاصد حاصل کرنے کا عمل اب انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سب سے بڑی ترجیح ہمیشہ امن رہی ہے اور مزید ہلاکتوں یا تباہی کی کوئی ضرورت نہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران حقیقت سے آنکھیں چرانے اور غلط فہمیوں میں مبتلا رہا تو امریکا خطے میں اب تک کا سب سے بڑا اور طاقتور حملہ کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اب جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے، مگر ابھی تک امریکا کی پیش کردہ جنگ بندی کی تجاویز کو مسترد کر چکی ہے اور ٹھوس ضمانتوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ ایران پر پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ فوجی آپریشن مکمل ہوتے ہی عالمی منڈی میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں نمایاں کمی آنا شروع ہو جائے گی، جو خطے اور دنیا بھر کے لیے ایک بڑی ریلیف ثابت ہوگی۔

امریکا آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے متعلق تمام اہم مشاورتوں اور فیصلوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ایرانی سفیر نے ایک بار پھر تصدیق کی کہ اب تک امریکا کے ساتھ کسی قسم کا براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ 14 اور 15 مئی کو چینی صدر سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ چینی صدر واشنگٹن کا دورہ کریں گے، البتہ اس دورے کی حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور دنیا بھر کی نظریں امریکا اور ایران کے اگلے قدم پر مرکوز ہیں۔







Discussion about this post