وزیر اعظم شہباز شریف نے رہائشی شعبے کو معاشی ترقی کا نیا انجن بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے ایک اہم اور دوررس اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں کم لاگت والے گھروں کی فراہمی، رہائشی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور اس کے ذریعے لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم نے واضح طور پر کہا کہ "اپنا گھر ہر شہری کا بنیادی حق ہے” اور حکومت کی اولین ترجیح آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی اور رہائشی شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ رہائشی اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع استعداد سے فائدہ اٹھانے کے لیے تمام رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں۔ بیرونی سرمایہ کاروں اور سمندر پار پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا جھجھک اس شعبے میں سرمایہ لگا سکیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری نہ صرف معیشت کا پہیہ تیز کرے گی بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے بھی کھولے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ساتھ ساتھ صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی اس حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔
اسلام آباد: 26 مارچ 2026.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت رہائشی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اقدامات، کم لاگت گھروں کی فراہمی اور شعبے میں روزگار کے اضافے پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ اپنا گھر ہر شہری… pic.twitter.com/wjxAmjeq0Y
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) March 26, 2026
اجلاس میں ٹاسک فورس اور ورکنگ گروپس کی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ بیرونی سرمایہ کاروں اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے خصوصی پیکیج، قانونی اصلاحات اور کم لاگت رہائشی منصوبوں کے لیے جدید قرضوں کے نظام پر کام تیزی سے جاری ہے۔ بینکوں کو جلد ہی واضح اہداف دیے جائیں گے جبکہ مارگیج فنانسنگ کا مکمل ایکو سسٹم اور ڈویلپر لیڈ فنانسنگ کا جامع ماڈل بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ رہائشی شعبے کی ترقی کے لیے جامع اور قابل عمل پلان کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر عملی مرحلے میں لا یا جائے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء، اٹارنی جنرل، گورنر اسٹیٹ بینک، صوبائی نمائندوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے حکام اور نجی شعبے کے ماہرین نے شرکت کی۔







Discussion about this post