تہران میں جمعرات کی رات ایک دہشت ناک اور پراسرار بمباری نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا، جس کی گونج پاکستان کے سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے بالکل قریب سنائی دی۔ تاہم خوش قسمتی سے پاکستانی سفارتی عملہ مکمل طور پر محفوظ رہا اور کسی قسم کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق شدید بمباری کا سلسلہ رات تقریباً آٹھ بجے شروع ہوا۔ تہران کی فضا کو چیرتی ہوئی زور دار دھماکوں کی آوازیں مسلسل گونجتی رہیں، جن سے آس پاس کا ماحول لرز اٹھا۔ خاص طور پر پاکستانی سفارتخانے کے بالکل سامنے واقع ایرانی فوج کا اہم مرکز ’ارتش‘ ممکنہ طور پر اس حملے کا اصل ہدف تھا۔ پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو پاسداران انقلاب کے زیر انتظام علاقے میں اپنی رہائشگاہ پر موجود تھے، جہاں بھی بمباری کی شدید آوازیں آئیں۔ تاہم سفارتخانے کی عمارت اور سفیر کی رہائشگاہ دونوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ ایک سینئر سفارتکار نے بتایا کہ دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پورا عملہ ایک لمحے کے لیے پریشان ضرور ہو گیا، مگر فوری طور پر سب کو محفوظ مقامات پر منتقل کر لیا گیا۔ تقریباً بیس رکنی پاکستانی سفارتی ٹیم اس وقت بھی معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہے۔ سفیر مدثر ٹیپو اور ان کا عملہ موجودہ کشیدہ صورتحال کے باوجود اپنے فرائض نبھانے میں مصروف ہے اور تہران میں تیزی سے بدلتے حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستانی سفارتخانہ اس نازک مرحلے میں بھی اپنے شہریوں کی حفاظت اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی محتاط اور فعال ہے۔







Discussion about this post