اسرائیلی فوج ایک گہرے اور پریشان کن بحران کی زد میں آ چکی ہے، جہاں اہلکاروں کی شدید کمی نے اس کی جنگی صلاحیت کو شدید دھچکا پہنچا دیا ہے۔ اعلیٰ عسکری قیادت نے براہ راست خبردار کر دیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو فوج اندر سے ہی کمزور اور بکھرنے لگے گی۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں ایک الارمنگ بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ اعلیٰ حکام کے سامنے دس خطرے کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد محاذوں پر بیک وقت جاری لڑائی کا دباؤ فوج پر اتنا بڑھ چکا ہے کہ جلد ہی وہ اپنی معمول کی ذمہ داریاں بھی پوری کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔

ایال زمیر نے واضح لفظوں میں خبردار کیا کہ بڑھتے ہوئے دباؤ اور افرادی قوت کی کمی کے باعث فوج خود ہی بکھر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال فوج کی آپریشنل تیاری کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے اور اگر اسے روکا نہ گیا تو مستقبل قریب میں اسرائیلی فوج کی مجموعی جنگی صلاحیت متاثر ہو گی۔ آرمی چیف نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری قانون سازی پر زور دیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ لازمی فوجی بھرتی، ریزرو ڈیوٹی کے قوانین اور فوجی سروس کی مدت میں اضافے سے متعلق نئے قوانین فوری طور پر منظور کیے جائیں، تاکہ فوج کی کم ہوتی ہوئی طاقت کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔

یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل ایک سے زیادہ محاذوں پر شدید تناؤ اور لڑائی کا شکار ہے۔ مسلسل جنگوں، ریزرو فورسز کی تھکاوٹ اور نئی بھرتیوں میں کمی نے مل کر فوج کو ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کی طاقت کی حدیں کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔ اسرائیلی فوج کی روایتی طاقت اور تیاری کے بلند و بانگ دعووں کے باوجود یہ بیان ایک تلخ حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔ جب فوج کا سب سے بڑا سربراہ خود یہ تسلیم کر رہا ہو کہ افرادی قوت کی کمی اسے اندر سے توڑ رہی ہے .







Discussion about this post