پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کی درخشاں فضا کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے کھلاڑیوں کے سیکیورٹی پروٹوکول میں سخت ترین اقدامات کر دیے ہیں، جو ٹورنامنٹ کی سالمیت اور کھلاڑیوں کی حفاظت کو نئی بلندیاں بخش رہے ہیں۔ یہ فیصلہ لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی اور آل راؤنڈر سکندر رضا سے متعلق ایک تشویش ناک واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔ نئی ہدایات کے تحت اب کھلاڑیوں کو ہوٹل کے کمروں میں کسی بھی مہمان کو بلانے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔ صرف قریبی اہلِ خانہ کو محدود استثنا دیا گیا ہے، وہ بھی صرف اس صورت میں جب چوبیس گھنٹے پہلے ٹیم مینجمنٹ اور سیکیورٹی حکام کو مکمل طور پر آگاہ کر دیا جائے۔ دیگر تمام ملاقاتیں صرف ہوٹل کے مخصوص عوامی یا کاروباری مقامات پر پیشگی اجازت کے بعد ہی ممکن ہوں گی۔اٹھائیس مارچ کو پیش آنے والے اس واقعے میں ایک اہم میچ سے قبل سیکیورٹی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی سامنے آئی۔

پنجاب پولیس کے مطابق ٹیم کے لائزن افسر نے سکندر رضا کے کمرے میں چار افراد کی دو بار ملاقات کی اجازت طلب کی، مگر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پی سی بی کے سیکیورٹی اور اینٹی کرپشن مینیجر اور پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر نے اس کی سختی سے تردید کر دی۔اس کے باوجود مبینہ طور پر کھلاڑیوں نے سیکیورٹی عملے کو نظرانداز کرتے ہوئے مہمانوں کو ہوٹل کے آٹھویں فلور پر لے گئے، جہاں وہ تقریباً تین گھنٹے تک قیام پذیر رہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسے سیکیورٹی نظام میں سنگین خلل قرار دیا ہے۔ سکندر رضا نے بعد میں وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کھلاڑیوں کو ہوٹل میں مہمان بلانے کی اجازت ہوا کرتی تھی اور انہیں نئے سخت قوانین کی مکمل آگاہی نہیں تھی۔ انہوں نے اس معاملے کی ذمہ داری بھی قبول کر لی۔

پی سی بی اور صوبائی حکام نے واضح پیغام دیا ہے کہ اب سیکیورٹی کے معاملے میں کوئی بھی نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ٹورنامنٹ کے محفوظ، شفاف اور کامیاب انعقاد کو یقینی بنانا پی سی بی کی پہلی ترجیح ہے۔ یہ سخت اقدامات نہ صرف کھلاڑیوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے بلکہ پی ایس ایل کو دنیا کی محفوظ ترین اور اعلیٰ معیار کی لیگ بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے، تاکہ کرکٹ کے شائقین بلا خوف و خطر اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کا جادو دیکھ سکیں۔







Discussion about this post