شہباز شریف کی زیر صدارت توانائی کے شعبے سے متعلق ایک نہایت اہم اور دور اندیش اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات، مؤثر بچت اور مستقبل کی جامع حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کو توانائی کے حوالے سے خود کفیل اور مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ انرجی سیکیورٹی اب محض ایک ضرورت نہیں بلکہ قومی منصوبہ بندی کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے باوجود بروقت اور مؤثر فیصلوں کی بدولت ملک کسی بڑے توانائی بحران سے محفوظ رہا۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif chaired a meeting regarding energy security. Islamabad, 23 April 2026. pic.twitter.com/F92ICtGKcb
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) April 23, 2026
انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خام تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کے قیام کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جائے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ملک کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ اجلاس میں ماحول دوست اور پائیدار ترقی کے فروغ پر بھی بھرپور زور دیا گیا۔ وزیراعظم نے واضح ہدایات جاری کیں کہ آئندہ سرکاری استعمال کے لیے صرف الیکٹرک بسیں اور موٹر سائیکلیں خریدی جائیں، جبکہ ملک بھر میں ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کو تیز تر کیا جائے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کی جانب عملی پیش رفت ممکن ہو سکے۔ مزید برآں، شمسی توانائی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے بیٹری اسٹوریج کے نظام کو آسان بنانے اور مقامی سطح پر معیاری بیٹریوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنے کی بھی ہدایت دی گئی، تاکہ توانائی کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل روزانہ کی بنیاد پر توانائی کی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں جبکہ گیس اور تیل کی مقامی پیداوار میں بھی خوش آئند اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گرڈ سطح پر بیٹری اسٹوریج کے دو اہم تجرباتی منصوبے تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہیں، جبکہ گھریلو سطح پر شمسی توانائی استعمال کرنے والے صارفین کو بھی بیٹری اسٹوریج اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے، جو توانائی کے محفوظ اور مستحکم مستقبل کی ایک روشن علامت ہے۔اجلاس میں وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے بھرپور شرکت کی اور توانائی کے شعبے میں جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قیمتی آراء کا تبادلہ کیا، جس سے ملک کو ایک مضبوط، روشن اور پائیدار توانائی مستقبل کی جانب لے جانے کی امید مزید مستحکم ہو گئی۔







Discussion about this post