ڈونلڈ ٹرمپ کے یورپ مخالف بیانات کے بعد یورپی عوام کے خیالات میں ایک غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں ایک تازہ سروے نے عالمی طاقتوں کے حوالے سے نئی سوچ کو بے نقاب کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق یورپ کے چھ اہم ممالک میں کیے گئے اس سروے میں حیران کن طور پر 36 فیصد افراد نے امریکا کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا، جبکہ 29 فیصد نے چین کو خطرہ سمجھا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی سیاست میں بیانیے کس قدر تیزی سے عوامی رائے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ملک بہ ملک جائزہ لیا جائے تو اسپین میں سب سے زیادہ تشویش پائی گئی، جہاں 51 فیصد افراد امریکا کو خطرہ سمجھتے ہیں۔ اٹلی میں یہ شرح 46 فیصد جبکہ بیلجیم میں 42 فیصد رہی۔ جرمنی جیسے اہم یورپی ملک میں بھی 30 فیصد افراد نے امریکا کو زیادہ خطرناک قرار دیا، جو ایک بڑی سفارتی تبدیلی کا اشارہ ہے۔

دوسری جانب فرانس میں رائے نسبتاً منقسم نظر آئی، جہاں 37 فیصد افراد نے امریکا جبکہ 43 فیصد نے چین کو بڑا خطرہ قرار دیا۔ پولینڈ میں صورتحال مختلف رہی، جہاں صرف 13 فیصد افراد نے امریکا کو خطرہ سمجھا، جبکہ 37 فیصد نے چین کو زیادہ خطرناک قرار دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یورپ میں عالمی طاقتوں کے بارے میں عوامی رائے تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ سیاسی بیانات، خارجہ پالیسی کے رخ اور بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی اس تبدیلی کے بنیادی عوامل بن چکے ہیں، جو آنے والے وقت میں عالمی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔







Discussion about this post