پاکستان کرکٹ بورڈ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک–بھارت میچ کے ریفری اینڈی پائی کرافٹ کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے باضابطہ شکایت درج کراتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ مطالبہ تسلیم نہ ہوا تو پاکستان ایشیا کپ کے باقی میچز کھیلنے سے انکار کر سکتا ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب پاک–بھارت میچ کے دوران بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی ٹیم سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا، جسے کھیل کی روح کے منافی قرار دیا گیا۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ میچ ریفری نے اس معاملے پر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ ماہرین کے مطابق اگر پاکستان ایشیا کپ سے دستبردار ہوتا ہے تو اس سے ٹورنامنٹ کی کمرشل ویلیو کو شدید دھچکا لگے گا۔

صرف پاک–بھارت میچز سے گزشتہ دو دہائیوں میں تقریباً 32 ہزار کروڑ روپے کی آمدن ہوئی ہے۔ رواں سال بھی اشتہارات اور اسپانسرشپ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں، جہاں محض 10 سیکنڈ کا ٹی وی اشتہار 50 لاکھ روپے میں فروخت ہوا جبکہ ڈیجیٹل اسپانسرشپ کی مالیت 90 کروڑ روپے تک جا پہنچی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اپنے اندازوں کے مطابق اسے آئی سی سی ریونیو پول سے 880 کروڑ روپے ملنے کی توقع ہے، جن میں سے صرف ایشیا کپ سے 116 کروڑ روپے کی آمدن متوقع ہے۔ تاہم بائیکاٹ کی صورت میں یہ آمدن خطرے میں پڑ سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان الگ ہو گیا تو نشریاتی اداروں، اسپانسرز اور ٹکٹ فروخت کرنے والوں کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑے گا، جبکہ ناظرین کے لیے ایونٹ کی کشش بھی نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔







Discussion about this post