ایران اور امریکہ نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی ہے۔ یہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی اور امید افزا پیش رفت ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جنگ بندی کے اعلان پر پاکستان کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے کلیدی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔” انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں "قابل قدر اور تاریخی” قرار دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود تصدیق کی کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی اہم بات چیت کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔
Thank you Pakistan for the quiet, effective, diplomatic role you have played in bringing about this vital ceasefire. @CMShehbaz @ForeignOfficePk https://t.co/frHAYxtYTS
— Jane Marriott (@JaneMarriottUK) April 8, 2026
عالمی سطح پر اس پیش رفت کو پاکستان کی ایک بڑی سفارتی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بھی پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس نے جنگ بندی ممکن بنانے میں مؤثر اور پیشہ ورانہ سفارتی کردار ادا کیا۔
Statement on behalf of the Supreme National Security Council of the Islamic Republic of Iran: pic.twitter.com/cEtBNCLnWT
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 7, 2026
پاکستان کے دانشوروں، صحافیوں اور عوام نے اس کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ صحافی صریل المیڈا نے لکھا: "عاصم منیر اور شہباز شریف نے دنیا کو تباہی سے بچا لیا۔”
Asim and Shahbaz… save the world…
— cyril almeida (@cyalm) April 7, 2026
ابصار عالم نے کہا: "دن رات کی انتھک محنت اور بہترین سفارتکاری سے پاکستان نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو جنگ سے بچایا۔”
دن رات کی انتھک محنت، مُشکل حالات میں بہترین سفارت کاری، دُنیا کو جنگ سے بچانے، پاکستانی جھنڈا پُوری دُنیا میں بلند کرنے، عالمی میڈیا میں پاکستان کی تعریفوں پر وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم مُنیر، نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، اُن کی ساری ٹیم، پُوری قوم کو دل سے مُبارکباد
🧿— Absar Alam (@AbsarAlamHaider) April 8, 2026
نورین سلیم جنجوعہ نے لکھا: "اب پاکستانی جہاں بھی جائیں گے، سر اٹھا کر جائیں گے۔ پاکستانی پاسپورٹ اب عزت اور احترام کی علامت بن چکا ہے۔”
آج سے پاکستانی جہاں بھی جائیں گے اپنے ملک کے نام سے پہچانے جائیں گے ۔ پاکستانی پاسپورٹ اب جہاں بھی جائے ہر امیگریشن کی لائن میں ہر ملک میں ہر میڈیا میں یہ نام انجان یا گمنام ملک کے طور پر نہیں بلکہ نامور مضبوط اور قابلِ احترام ریاست کے طور پر دیکھا جائے گا ۔
— Naureen Saleem Janjua (@NaureenJanjua) April 8, 2026
میر محمد علی خان کا کہنا تھا: "جو کام آج پاکستان نے کیا ہے، وہ ہزاروں سال تک تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔”
پھر کہونگا۔
پاکستان زندہ باد۔ جو کام آج پاکستان کرگیا وہ دنیا میں ہزاروں سال تک یاد رکھا جائیگا۔ ۔
— Mir Mohammad Alikhan (@MirMAKOfficial) April 7, 2026
ایک سوشل میڈیا صارف نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: "ایٹمی جنگ روکنے اور پوری دنیا کو بچانے پر آپ ہمیشہ ایک ہیرو کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی امریکہ اور ایران کے وفود کو 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات کے لیے دعوت دے دی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات کے لیے 10 نکاتی ایجنڈا تیار کیا گیا ہے، جس میں یورینیم افزودگی کے حق، پابندیوں کے خاتمے اور مستقبل میں حملوں کے خلاف مضبوط ضمانتوں سمیت اہم مسائل شامل ہیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ جب بات امن کی ہو تو دنیا اس کی طرف دیکھتی ہے۔ یہ صرف جنگ بندی نہیں، بلکہ پاکستانی قیادت کی عالمی سفارتکاری کی ایک شاندار فتح ہے۔







Discussion about this post