آج ایوان صدر میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور پاکستان کی ثالثی کے کردار پر ایک اہم اور اعلیٰ سطحی بیٹھک طلب کی گئی ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری اس اہم اجلاس کی صدارت کریں گے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف، اہم وفاقی وزراء، عسکری قیادت اور صوبائی قیادت بھی شرکت کریں گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ پاکستان نے خطے میں امن کی شمع روشن کرنے کی تاریخی کاوش کی تھی۔ اس اجلاس میں امریکہ اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے پر زور دیا گیا۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ تینوں برادر مسلم ممالک نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی مکمل تعریف اور تائید کی ہے۔ چین بھی پاکستان کے تعمیری اور مثبت کردار کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کا بھرپور ساتھ دے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام ضروری ہے۔ اجلاس میں چاروں ممالک نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا اور اس مقصد کے لیے وزارت خارجہ کے سینئر حکام پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جو باہمی مشاورت سے آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔ پاکستان کی یہ سفارتی پیش قدمی نہ صرف مسلم امہ کے اتحاد کو نئی جلا بخش رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے امن پسند اور ذمہ دار ملک کے طور پر کردار کو ایک بار پھر اجاگر کر رہی ہے۔








Discussion about this post