فضائی آلودگی کی ایک نئی عالمی رپورٹ نے دنیا کو حیران کر دیا ہے، جس میں انکشاف ہوا کہ پاکستان 2025 میں اسموگ کے سمندر میں ڈوبا ہوا سب سے آلودہ ملک بن کر ابھرا۔ سوئٹزرلینڈ کی مشہور کمپنی آئی کیو ایئر کی سالانہ رپورٹ ایک ایسا آئینہ ہے جو حقیقت کو بے پردہ کر کے پیش کرتی ہے، اور اس کے مطابق گزشتہ سال صرف تیرہ ممالک ہی ایسے تھے جہاں خطرناک باریک ذرات پی ایم 205 کی اوسط سطح عالمی ادارۂ صحت کے محفوظ معیار یعنی پانچ مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے نیچے رہی۔ پاکستان میں ان زہریلے ذرات کی مقدار اس محفوظ حد سے 13 گنا تک زیادہ ریکارڈ کی گئی، جو لاکھوں لوگوں کی سانسوں کو خاموشی سے چھین رہی ہے۔ لاہور، جو ایک بار پھر دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار پایا، اپنی خطرناک فضا کے ساتھ ایک ایسا المیہ بن چکا ہے جو دل دہلا دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 143 ممالک اور خطوں میں سے 130 اس عالمی معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہے، جبکہ آلودگی کی فہرست میں بنگلادیش دوسرے اور تاجکستان تیسرے نمبر پر جگہ بنا کر کھڑے ہیں۔دنیا کے 25 سب سے زیادہ زہریلے شہروں کی فہرست پر ایک نظر ڈالیں تو ان میں سے بیشتر بھارت، پاکستان اور چین کے شہروں پر مشتمل ہیں، جو اس بحران کی گہرائی کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ دوسری طرف آسٹریلیا، آئس لینڈ، ایسٹونیا اور پاناما جیسے ممالک صاف ستھری فضا کے جزیرے بنے ہوئے ہیں، جہاں سانس لینا ایک خوشگوار تجربہ ہے۔ جبکہ لاؤس، کمبوڈیا اور انڈونیشیا میں موسمی بارشوں اور تیز ہواؤں نے آلودگی کو نمایاں طور پر کم کر کے ایک امید کی کرن جگا دی ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف ایک اعداد و شمار کی فہرست ہے بلکہ ایک زور دار آواز بھی ہے جو ہمیں فوری طور پر سوچنے اور عمل کرنے کی دعوت دیتی ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کو صاف آسمان کا تحفہ مل سکے۔







Discussion about this post